وہ دوسروں کو بچاتے خود امر ہوا

تحریر: شازیہ کنول 

Jul 06, 2026 | 13:48:PM
وہ دوسروں کو بچاتے خود امر ہوا
کیپشن: شازیہ کنول
سورس: 24 نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

کچھ لوگ صرف زندگی نہیں گزارتے وہ اپنی موت سے بھی قوموں کو جینے کا سبق دے جاتے ہیں۔
اسلام آباد کی ایک سڑک پر پیش آنے والا واقعہ صرف ایک قتل نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی ضمیر کا امتحان تھا، ایک جانب ایک خاتون مدد کی منتظر تھی ،دوسری جانب ایک مسلح ملزم تھا اور تیسری جانب ایک ایسا پاکستانی کھڑا تھا جس کے پاس خاموشی سے گزر جانے کا بھی اختیار تھا، مگر اس نے خاموش تماشائی بننے کے بجائے انسانیت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔
پاکستان فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق نے اپنی وردی کی قسم کو صرف ڈیوٹی تک محدود نہیں رکھا، انہوں نے ثابت کیا کہ ایک حقیقی سپاہی کی ذمہ داری صرف سرحد پر نہیں بلکہ ہر اس جگہ ہوتی ہے جہاں کسی بے گناہ کی جان، عزت یا وقار خطرے میں ہو۔
انہوں نے مداخلت کی ایک خاتون کو ممکنہ خطرے سے بچانے کی کوشش کی مگر ایک بزدل مجرم نے گولی چلا دی، گولی ایک انسان کے جسم میں لگی مگر درحقیقت اس نے پورے معاشرے کے ضمیر کو زخمی کیا۔
آج سوال صرف یہ نہیں کہ قاتل کون ہے، اصل سوال یہ ہے کہ آخر ہمارے شہروں میں مجرم اس قدر بے خوف کیوں ہیں کہ دن دہاڑے اسلحہ استعمال کرتے ہیں؟ انہیں قانون کا ڈر کیوں نہیں؟ اگر ریاست کا خوف ختم ہو جائے تو معاشرہ جنگل بن جاتا ہے جہاں طاقتور کا قانون چلتا ہے انصاف کا نہیں۔
گروپ کیپٹن عاصم طارق نے اپنی جان قربان کر کے یہ ثابت کیا کہ بہادری وردی کی محتاج نہیں کردار کی محتاج ہے ، وہ چاہتے تو نظریں چرا کر آگے بڑھ سکتے تھے مگر انہوں نے ایک اجنبی خاتون کی مدد کو اپنی ذمہ داری سمجھا، یہی وہ کردار ہے جو قوموں کو عظیم بناتا ہے۔
افسوس یہ ہے کہ آج ہمارا معاشرہ ایسے مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں اکثر لوگ کسی مظلوم کی مدد کرنے سے پہلے یہ سوچتے ہیں کہ کہیں خود ہی مصیبت میں نہ پھنس جائیں۔ یہ خوف صرف مجرم پیدا نہیں کرتے بلکہ انصاف میں تاخیر، کمزور احتساب اور قانون پر عدم اعتماد بھی اسے جنم دیتا ہے۔
یہ سانحہ حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدالتی نظام سب کے لیے ایک پیغام ہے، اگر ایک اعلیٰ فوجی افسر بھی قانون شکن عناصر کے ہاتھوں محفوظ نہیں تو عام شہری اپنے آپ کو کیسے محفوظ سمجھے؟
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اس قتل کی مکمل، شفاف اور تیز رفتار تحقیقات ہوں قاتل کو قانون کے مطابق گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، اور یہ واضح پیغام دیا جائے کہ کسی بے گناہ کی جان لینے والا قانون سے نہیں بچ سکتا۔
ساتھ ہی ہمیں اپنے معاشرے میں ایسے کردار کو زندہ رکھنا ہوگا،ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ بہادری صرف جنگ کے میدان میں نہیں، بلکہ کسی مظلوم کی مدد کرنے میں بھی ہوتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ریاست کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ جو شہری حق اور انصاف کے لیے کھڑا ہو اسے تحفظ فراہم کیا جائے۔
گروپ کیپٹن عاصم طارق اب اس دنیا میں نہیں مگر ان کا عمل زندہ ہے، انہوں نے ثابت کر دیا کہ شہادت صرف سرحد پر نہیں ملتی انسانیت کی حفاظت کرتے ہوئے بھی مل سکتی ہے۔
قومیں اپنے ایسے بیٹوں پر فخر کرتی ہیں  اور تاریخ ہمیشہ یاد رکھتی ہے کہ ایک دن اسلام آباد کی ایک سڑک پر ایک شخص نے اپنی جان بچانے کے بجائے ایک خاتون کی عزت اور حفاظت کو ترجیح دی اور اسی لمحے وہ ایک فرد سے بڑھ کر ایک مثال بن گیا۔
سلام ہے اس سپاہی کو، جس نے یہ پیغام دیا کہ وردی صرف جسم پر نہیں کردار میں بھی پہنی جاتی ہے۔