سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کا نیا ضابطہ جاری، اجلاس کیلئے دو ارکان کی موجودگی لازمی قرار

Jul 06, 2025 | 15:54:PM
سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کا نیا ضابطہ جاری، اجلاس کیلئے دو ارکان کی موجودگی لازمی قرار
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

( 24 نیوز)سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی نے 2025 کے لیے نئے ضوابط جاری کر دیے ہیں جو اب باقاعدہ طور پر نافذالعمل ہوں گے۔ یہ ضوابط پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 کے تحت جاری کیے گئے ہیں۔

نئے ضوابط کے مطابق، کمیٹی کی سربراہی چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کر رہے ہیں جبکہ کمیٹی میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس امین الدین بھی شامل ہیں۔ کمیٹی کا اجلاس چیف جسٹس جب چاہیں، فزیکل یا ورچوئل کسی بھی صورت میں طلب کر سکتے ہیں۔

ضوابط کے تحت کمیٹی کے کسی بھی اجلاس کے لیے کم از کم دو ارکان کی موجودگی کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کی یہ کمیٹی اب بنچوں کی تشکیل باقاعدہ بنیاد پر کرے گی۔ مزید برآں، اگر چیئرمین یا کسی رکن میں تبدیلی آتی ہے تو یہ بنچ کی تشکیل کو غیر قانونی قرار نہیں دے گی۔

 یہ بھی پڑھیں:کتوں کی طرح بھونک کر بات کر نے والا 8 سالہ بچہ

نوٹیفکیشن کے مطابق، اگر چیف جسٹس ملک سے باہر ہوں یا دستیاب نہ ہوں، تو وہ ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے سکتے ہیں۔ یہ خصوصی کمیٹی جج کی بیماری، وفات، غیرموجودگی یا علیحدگی کی صورت میں ہنگامی بنیادوں پر بنچ میں تبدیلی کر سکے گی۔

ایسے تمام ہنگامی فیصلے تحریری طور پر ریکارڈ کیے جائیں گے اور ان کے اسباب درج کرنا لازمی ہوگا۔ ان فیصلوں کو بعد ازاں کمیٹی کے اگلے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ رجسٹرار ہر اجلاس، فیصلے اور کسی بھی قسم کی تبدیلی کا مکمل ریکارڈ محفوظ رکھنے کا پابند ہوگا۔