بھارتی ایئرلائن انڈیگو پر سخت تنقید ،CEO کو ہٹانے اور کمپنی پر جرمانہ کرنے کی تیاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) بھارت کی مرکزی حکومت ائیرلائن کمپنی انڈیگو کےسی ای او پیٹر ایلبرز (Peter Elbers) کو ہٹانے کی سفارش پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ ایئرلائن پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کی بھی تیاری ہے، جسے بھارتی ائیرلائنز انڈسٹری میں اب تک کی سب سے بڑی کارروائی سمجھا جا رہا ہے۔بھارت کی سب سے بڑی ایئرلائن انڈیگو گزشتہ 3 دنوں سے شدید تنقید کی زد میں ہے۔ زبردست کینسلیشن، گھنٹوں کی تاخیر اور ملک بھر کے ایئرپورٹس پر پیدا ہونے والی افرا تفری نے پورے ایوی ایشن نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اب حکومت اس پورے بحران کو انتہائی سنگین مان رہی ہے اور پہلے ہی سے ناراض مسافروں کا غصہ مزید بڑھتا جا رہا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری ذرائع کے مطابق مرکزی حکومت انڈیگو کے سی ای او پیٹر ایلبرز (Peter Elbers) کو ہٹانے کی سفارش پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ ایئرلائن پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کی بھی تیاری ہے، جسے انڈسٹری میں اب تک کی سب سے بڑی کارروائی سمجھا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت ایئرلائن کے آپریشنز میں براہِ راست کمی کرنے جا رہی ہے۔ انڈیگو کے کئی روٹس پر فلائٹ الاٹمنٹ کم کر دیے جائیں گے۔ ایئرلائن کو صرف اتنی ہی پروازیں چلانے کی اجازت دی جائے گی جن کیلئے وہ مکمل عملہ فراہم کر سکے۔ اس دوران یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ انڈیگو گزشتہ کئی مہینوں سے ضرورت سے زیادہ بھرا ہوا شیڈول چلا رہی تھی۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اوور اسٹریسڈ آپریشنز نے ہی اس بڑے آپریشنل میلٹ ڈاؤن کو جنم دیا، جس کے باعث ہزاروں مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق حالات اتنے بگڑ چکے ہیں کہ ایئرلائن کے اعلیٰ افسران کو آج پھر سے وزارتِ شہری ہوابازی میں طلب کیا گیا ہے۔ شام 6 بجے ایک اور ضروری میٹنگ ہوگی، جس میں وزارت یہ جاننا چاہتی ہے کہ ایئرلائن نے حالات قابو میں لانے کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے ہیں۔ حکام نے واضح اشارہ دیا ہے کہ اگر انڈیگو نے فوری بہتری نہ دکھائی تو آگے کی کارروائی مزید سخت ہوگی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارتِ شہری ہوابازی اس پورے بحران پر وزیراعظم کے دفتر کو الگ سے بریف کرنے کی تیاری کر چکی ہے۔ اشارے صاف ہیں کہ مرکزی حکومت اس بار معاملہ کو ہلکے میں نہیں لینے والی ہے۔ مسافروں کی شکایات لگاتار بڑھ رہی ہیں اور ڈی جی سی اے پر سخت دباؤ ہے کہ وہ فوری کارروائی کرے۔
یہ بھی پڑھیں:برطانوی ڈاکٹر 13 سال سے کم عمر بچوں سمیت جنسی زیادتی کے درجنوں واقعات میں ملوث نکلا