وزیراعلیٰ کی ہدایات نظرانداز، آئی جی خیبرپختونخوا نے ایمل ولی خان کی سکیورٹی واپس لے لی

Oct 05, 2025 | 12:47:PM
وزیراعلیٰ کی ہدایات نظرانداز، آئی جی خیبرپختونخوا نے ایمل ولی خان کی سکیورٹی واپس لے لی
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)خیبرپختونخوا میں ایک اہم انتظامی تنازع سامنے آیا ہے، جہاں آئی جی پولیس نے وزیراعلیٰ کی واضح ہدایات کے باوجود عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان کی سکیورٹی واپس لے لی ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ایمل ولی خان کو مکمل سکیورٹی برقرار رکھنے کی یقین دہانی کرائی تھی، مگر پولیس حکام نے یہ ہدایت نظرانداز کرتے ہوئے اہلکار واپس بلالیے۔

آج صبح پشاور میں تعینات تمام پولیس اہلکاروں کو لائن حاضر کر دیا گیا، اس سے قبل وفاقی سطح پر دی گئی سکیورٹی بھی واپس لے لی گئی تھی، جس کے بعد اب صوبائی پولیس کی سکیورٹی بھی ختم کردی گئی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان نے اس اقدام پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ  ہائبرڈ رجیم کے پارٹنرز نے وزیراعلیٰ کو یرغمال بنا رکھا ہے، خود وزیراعلیٰ بھی آئی جی کے سامنے بےبس ہیں۔ 

ترجمان کا کہنا تھا کہ اے این پی اپنے رہنماؤں کی سکیورٹی کے لیے نیا لائحہ عمل طے کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں:ریلوے مسافروں کیلئے اہم خبر! جانیے کسی ٹرین کا کتنا کرایہ بڑھا؟

ترجمان کے مطابق ایمل ولی خان کو درپیش خطرات سے متعلق پہلے ہی متعدد بار حکومت کو آگاہ کیا جا چکا ہے، مگر اس کے باوجود سکیورٹی ہٹانے کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ ہاؤس اور پولیس کے درمیان اس معاملے پر بیک ڈور رابطے جاری ہیں، تاہم اب تک سکیورٹی بحال نہیں کی گئی۔