نورِ سحرمیں" صلح جوئی اور باہمی تعلقات کی اصلاح " کے موضوع پر علمی و روحانی نشست
جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ معاشرے میں اختلافات فطری امر ہیں مگر ان اختلافات کو دشمنی میں بدل دینا تباہ کن عمل ہے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)ٹی وی پروگرام "نورِ سحر" میں ایک علمی و روحانی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع " صلح جوئی اور باہمی تعلقات کی اصلاح "تھا۔
پروگرام’’نورسحر‘‘کے میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ معاشرے میں اختلافات فطری امر ہیں مگر ان اختلافات کو دشمنی میں بدل دینا تباہ کن عمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ جیسے مختلف پھول ایک ہی باغ کے حسن میں اضافہ کرتے ہیں، ویسے ہی نظریاتی و سیاسی اختلافات بھی اگر برداشت اور احترام کے ساتھ نبھائے جائیں تو معاشرتی خوبصورتی کا سبب بنتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج ہمارا معاشرہ نفرت اور تقسیم کا شکار ہے، بدقسمتی سے میڈیا اور بعض رہنما عوام میں اختلافات کو ہوا دے کر ریٹنگ اور مفادات حاصل کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کے درمیان صلح کو سب سے افضل عمل قرار دیا ہے، اور صلح کرانے والے کو اللہ تعالیٰ غلام آزاد کرنے کے برابر اجر عطا فرماتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر مدثر حسین سیان نے کہا کہ ہر مذہب کی بنیاد عقائد، عبادات اور اخلاقیات پر قائم ہے، جبکہ اسلام نے بطورِ خاص صلح اور اخلاقی برتاؤ پر زور دیا ہے، قرآنِ کریم میں مومنین کو بھائی بھائی بننے اور اختلاف کی صورت میں صلح کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔
انہوں نے امام ابو حنیفہؒ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کا طرزِ عمل صبر، تحمل اور صلح کا عملی نمونہ تھا۔
ڈاکٹر سیان نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص محض صلح کی خاطر اپنا حق چھوڑ دے، اس کے لیے جنت میں محل تیار کیا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نبی کریم ﷺ نے کبھی جنگ میں پہل نہیں کی بلکہ ہمیشہ صلح کو ترجیح دی، اور صلح حدیبیہ اسلام کی پالیسی کی بنیاد ہے۔
ڈاکٹر عفاف منظور نے کہا کہ کامیاب ازدواجی اور معاشرتی زندگی کی بنیاد صبر، خاموشی اور صلح جوئی پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ گھریلو اور سماجی سطح پر اختلافات کی بڑی وجہ حسد، غصہ اور کنٹرول کی خواہش ہے، جب انسان کسی کو قابو میں نہیں رکھ پاتا تو نفرت کرنے لگتا ہے، اور یہی نفرت خاندانوں کو جلا دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نفرت کا سب سے بڑا نقصان خود نفرت کرنے والے کو ہوتا ہے، کیونکہ غصہ اور بغض ذہنی و جسمانی صحت کو متاثر کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حقیقی صحت صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی و سماجی توازن کا نام ہے، اور سماجی صحت کا تقاضا ہے کہ انسان بہتر تعلقات قائم کرے اور دوسروں کے جذبات کا احترام کرے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل میں عدم برداشت اور گفتگو کی کمی گھریلو اختلافات کو بڑھا رہی ہے، ہمیں سکھانا ہوگا کہ اختلاف کو ضد اور الزام کی بجائے صلح، صبر اور سمجھوتے سے حل کیا جائے۔
پروفیسر احسن اویس مصطفوی نے کہا کہ جدید معاشرتی اقدار میں تیزی سے تبدیلی نے محبت، اخوت اور صلح کے روایتی اصولوں کو متاثر کیا ہے، مادیت اور مفاد پرستی نے انسانی رشتوں کو کمزور کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرآن و سنت میں صلح و برداشت کے واضح احکامات موجود ہیں، مگر ہم ان تعلیمات سے دور ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے نفس اور غرور کو قابو میں نہ لائیں تو حسد اور بغض ایسے زخم پیدا کرتے ہیں جو خاندانوں اور محفلوں کو بکھیر دیتے ہیں۔