عراق نے تیل برآمدات کے اسٹریٹجک پائپ لائن منصوبوں کے ابتدائی معاہدوں کی منظوری دے دی
Stay tuned with 24 News HD Android App
( ویب ڈیسک )عراق کی کابینہ نے ملک کی تیل برآمدی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے اہم پیش رفت کرتے ہوئے مختلف اسٹریٹجک پائپ لائن منصوبوں کے فزیبلٹی اسٹڈیز کی اجازت دے دی ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق بصرہ آئل کمپنی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایک کنسورشیم کے ساتھ ابتدائی معاہدہ اور نان ڈسکلوجر ایگریمنٹ پر دستخط کرے، جس میں امریکی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ قطر کی کمپنی بھی شامل ہے۔
یہ کنسورشیم مجوزہ تیل پائپ لائن روٹس پر تکنیکی اور مالی فزیبلٹی اسٹڈیز تیار کرے گا، زیر غور منصوبوں میں بصرہ-حدیثہ-کرکوک-جیہان اور بصرہ-حدیثہ-بنیاس روٹس شامل ہیں، جو عراق کی تیل برآمدات کے لیے نئے راستے فراہم کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:حکومتی تجربہ الٹا پڑ گیا! بھارت میں پٹرول نے گاڑیاں خراب کر دیں
کابینہ نے واضح کیا ہے کہ یہ ابتدائی معاہدے کسی بھی قسم کی حتمی مالی یا قانونی ذمہ داری پیدا نہیں کرتے، بلکہ صرف فزیبلٹی اور تکنیکی جائزے کے لیے ہیں۔
مزید برآں بصرہ آئل کمپنی کو امریکی کمپنی کے ساتھ مشاورتی خدمات کا معاہدہ کرنے کی بھی اجازت دی گئی ہے، جو بصرہ-حدیثہ آئل پائپ لائن منصوبے پر کام کرے گی۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق یہ اقدامات عراق کے تیل کی برآمدی صلاحیت بڑھانے اور علاقائی توانائی راہداریوں میں ملک کے کردار کو مضبوط بنانے کی جانب اہم قدم ثابت ہو سکتے ہیں۔