پتنگ بازی کا سامان وافر مقدار میں دستیاب،ڈی سی لاہور نے خوشخبری سنادی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)ڈپٹی کمشنر لاہور نے واضح کیا ہے کہ پتنگوں کے نرخ انتظامیہ مقرر نہیں کرے گی کیونکہ یہ بنیادی ضرورت نہیں تاہم نرخ قابو میں رکھنے کیلئے دیگر اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
ڈی سی لاہور کے مطابق دیگر شہروں سے پتنگیں منگوانے کی اجازت دے دی گئی ہے جبکہ پنجاب کے چار اضلاع میں پتنگیں بنانے کی بھی اجازت دے دی گئی ہے, اس فیصلے کے بعد پتنگ بازی کا سامان وافر مقدار میں دستیاب ہو گیا ہے اور نرخ کم ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

بسنت کے موقع پر لبرٹی میں میوزیکل کنسرٹ کا اہتمام بھی کیا گیا ہے جس میں شہریوں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
علاوہ ازیں کیپٹن (ر) علی اعجاز نے اعلان کیا ہے کہ سیفٹی راڈز کے بغیر موٹرسائیکل سواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی تاکہ جشن محفوظ ماحول میں منایا جا سکے۔

اس کے علاوہ لاہور میں بسنت کی تیاریاں عروج پر ہیں ،چار روز میں 1رب 22 کروڑ سے زائد کی ڈور گڈی فروخت ہوگئی ہے، کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کےمطابق چوتھےروزبھی پتنگوں اور پنوں کی خریدو فروخت عروج پر ہے۔
مارکیٹس میں 10 لاکھ سے زائدگڈے پتنگیں فروخت ہوچکےہیں،چوتھے روز مارکیٹس میں 20 ہزار سے زائد پنے فروخت ہوئے۔

ترجمان کےمطابق ڈیڑھ تاوا گڈا 700روپے،ایک تاوا 400 روپے اور پونا تاوا 300 روپےمیں فروخت ہورہا ہے جبکہ 2 پیس کاپنا 12 سے 15ہزار کا فروخت ہو رہا ہے، چوتھے روز پتنگوں کے ریٹ میں اضافہ کیساتھ دستیابی بھی رہی۔
لاہور میں پتنگوں اور ڈور کی قلت کے باعث کراچی اور پشاور سے بڑے پیمانے پر سامان منگوایا جا رہا ہے، لاہور میں 19 سال بعد بسنت کی مشروط اجازت (6 سے 8 فروری) ملنے پر شہر میں پتنگ بازی کا جنون سر چڑھ کر بول رہا ہے، طویل پابندی کے باعث مقامی سطح پر پتنگ سازی کی صنعت موجودہ طلب پوری نہیں کر پا رہی، اس کمی کو پورا کرنے کے لیے کراچی سے پتنگوں کی بڑی کھیپ ٹرینوں اور بسوں کے ذریعے لاہور پہنچائی جا رہی ہیں۔
طلب زیادہ اور رسد کم ہونے کی وجہ سے قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔

کراچی کے شہری کا کہنا ہے کہ وہ لاہور میں موجود اپنے دوست کے لیے کراچی کے رینبو سینٹر میں ڈور خریدنے آئے ہیں، ان کے دوست نے ان سے ڈور کی فرمائش کی تھی جو لاہور میں نہیں مل رہی، اور اگر مل رہی ہے تو قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
شہری نے بتایا کہ اب کراچی میں بھی مال کم ہو چکا ہے اور 25 ہزار روپے کی ڈور کے لیے انہوں نے 50 ہزار روپے ادا کیے۔
لاہور کے مقابلے میں پتنگ کے ریٹ کراچی میں کم ہیں، لیکن ڈیمانڈ کے مطابق پتنگیں مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہیں۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ کافی عرصہ بعد ہمارا کاروبار چل رہا ہے، لیکن ہم اس کے لیے مکمل تیار نہیں تھے، اگلے سال ہم تیاری کرکے بیٹھیں گے تاکہ زیادہ منافع کما سکیں۔
دوسری طرف پشاور میں بھی یہی صورتحال ہے۔
پنجاب حکومت نے لاہور میں بسنت کی رنگارنگ تقریبات کو مزید محفوظ اور آسان بنانے کے لیے 2 رائیڈ کمپنییاں ان ڈرائیو اور ینگو کے ساتھ ایک اہم معاہدہ کر لیا ہے، اس اقدام کے ذریعے، 7,6 اور 8 فروری کو لاہور میں ہونے والی بسنت تقریبات کے دوران شہریوں کو مفت رکشہ اور کیب رائیڈز کی سہولت فراہم کی جائے گئی، حکومت کے مطابق اس سے آنے والے دوسرے ممالک سےسیاح اور پنجاب کے شہری مستفید ہونگے، ٹریفک کی شدید بھیڑ اور پارکنگ کے مسائل سے نجات دلانے میں یہ اقدام مدد دے گا۔

پی ایچ اے افسران کے مطابق اس معاہدے کے تحت دونوں کمپنیاں مجموعی طور پر 180,000 مفت رائیڈز پیش کریں گی جن میں سے ہر رائیڈ 8 کلومیٹر تک کی ہوگی۔
اس سروس میں رکشہ اور کیب دونوں شامل ہیں، شہری ایپ کے ذریعے بھی رائیڈ بک کر سکیں گئے اور وہ براہ راست سڑکوں سے بھی یہ سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔
ابتدائی طور پر اعلان کردہ اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 6,000 رکشے اور 60,000 کیب رائیڈز دستیاب ہوں گی جو شہر کے 24 اہم روٹس پر چلیں گی،یہ سروس خاص طور پر بسنت کے دوران پتنگ بازی اور تقریبات میں شرکت کرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے تاکہ شہری موٹر سائیکل اور اپنی سواری کا استعمال کم سے کم کریں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پنجاب حکومت اس معاہدے کے لیے کمپنیوں کو کوئی براہ راست مالی ادائیگی نہیں کرے گی،اس کے بدلے میں، ینگو اور ان ڈرائیو کو لاہور کی مرکزی سڑکوں، چوراہوں اور عوامی مقامات پر اشتہاری اور برانڈنگ کی خصوصی مراعات دی جائیں گی۔
پی ایچ افسران کے مطابق یہ ماڈل نہ صرف حکومت کے بجٹ کو بچائے گا بلکہ کمپنیوں کو بھی طویل مدتی فوائد دے گا جو شہر کی اقتصادی ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔

وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے اس اقدام کو بسنت کو ایک محفوظ، ماحول دوست اور خوشگوار تہوار بنانے کی طرف ایک بڑا قدم قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ سہولت خاص طور پر بزرگ افراد، خاندانوں، خواتین اور سیاحوں کے لیے مفید ہوگی جو بغیر کسی پریشانی کے تقریبات سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔
حکومت کا اندازہ ہے کہ اس سے روزانہ لاکھوں افراد مستفید ہوں گے، جو ٹریفک کے مسائل کو کم کرنے میں بھی مدد دے گا۔
علاوہ ازیں مفت بس سروس بھی جاری رہے گی جس میں 500 بسیں، میٹرو بس، اورنج لائن اور الیکٹرک بسیں شامل ہیں،حکومت کی جانب سے جلد ہی روٹس، پک اپ پوائنٹس اور دیگر تفصیلات کا اعلان کیا جائے گا تاکہ شہری پہلے سے منصوبہ بندی کر سکیں یہ معاہدہ لاہور کو ایک جدید شہر کی طرف گامزن کرنے کی ایک اور مثال ہوگا۔

اس کے علاوہ سب سے اہم بات یہ کہ لاہور میں بسنت کی تیاریاں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں، گلیوں، بازاروں، سڑکوں اور گھروں کو بسنتی رنگوں سے سجایا جا رہا ہے، لاہور میں بسنت کے موقع پر کھانوں کے آرڈر بُک ہونے لگے ، ہوٹلوں میں بُکنگ بڑھنے لگی ، بیرونِ ملک سے لوگ بسنت منانے لاہور پہنچنے لگے۔
لاہور کے مشہور ذائقوں کا مزہ چھکنے کے لیے پکوان سینٹرز کو ڈھیروں آرڈرز مل چکے ہیں۔
کنا، ہریسہ، مرغ چنا، کڑاہی، نہاری، پائے، حلیم اور حلوہ پوری ، ہر پکوان سینٹر کا روزگار چمک اٹھا۔

ماہرین کے مطابق بسنت کے 3 دنوں میں فوڈ انڈسٹری اور ہوٹل انڈسٹری میں اربوں روپے کا کاروبار متوقع ہے۔