سوشل میڈیا پر پاکستانی فلموں کی غیر قانونی ریلیز ۔۔۔۔۔پاکستانی فلمساز اور تقسیم کار پریشان
تحریر ۔۔۔زین مدنی حسینی
Stay tuned with 24 News HD Android App
پاکستانی فلم انڈسٹری اس وقت ایک سنگین اور پیچیدہ بحران سے گزر رہی ہے کیونکہ لندن اور یوکے میں بیٹھے چند لوگ جعلی یوٹیوب چینلز بنا کر پاکستانی فلموں کو غیر قانونی طور پر اپ لوڈ کر رہے ہیں۔ یہ عناصر نہ فلم سازوں سے اجازت لیتے ہیں، نہ ڈسٹری بیوٹر سے رابطہ کرتے ہیں اور نہ ہی کاپی رائٹ قوانین کو خاطر میں لاتے ہیں۔ فلمیں پاکستان میں بنتی ہیں لیکن چوری لندن سے ہوتی ہے اور اسی قانونی خلا کا فائدہ اٹھا کر یہ لوگ پوری انڈسٹری کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
مسئلہ اس وقت مزید خطرناک ہو گیا جب حال ہی میں فلمساز ملک محمد قیصر المعارف قیصر پیا کی فلم بھی انہی یوکے سے چلنے والے چینلز نے غیر قانونی طور پر اپ لوڈ کر دی، جس نے صاف دکھا دیا کہ یہ گروہ کسی کو بھی نہیں چھوڑ رہا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانی فلم ساز سمجھتے ہیں کہ انہیں یوکے جا کر کیس رجسٹر کروانا پڑے گا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عالمی کاپی رائٹ قوانین کے تحت یوٹیوب پر DMCA، Content ID، اور UK IPO نوٹس کے ذریعے پاکستان سے بیٹھ کر ہی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اس کے باوجود ان عناصر کی بے خوفی بڑھتی جا رہی ہے، خاص طور پر وہ وقت جب پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن اور پاکستان فلم ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین چوہدری کامران اعجاز کے انتقال کے بعد کاپی رائٹ کے تحفظ کا مضبوط نظام کمزور ہوا۔ چوہدری کامران اعجاز فلم سازوں کے سب سے طاقتور محافظ تھے، وہ ایک ایک گانے کی اجازت کے بغیر استعمال ہونے نہیں دیتے تھے۔ انہوں نے لکس اسٹائل ایوارڈز جیسے بڑے پلیٹ فارم سے بھی پاکستانی فلموں کے گانے استعمال کرنے پر متعلقہ فلم سازوں کو باقاعدہ پیسے دلوائے اور یہ ان کی سختی ہی تھی کہ اس دور میں کسی کو جرأت نہیں ہوتی تھی کہ فلم کا ایک شاٹ بھی غیر قانونی طور پر اپ لوڈ کرے۔ ان کے انتقال کے بعد پیدا ہونے والے خلا نے لندن اور یوکے میں بیٹھے ان عناصر کو موقع دیا کہ وہ پاکستانی فلموں کو کھلے عام اپ لوڈ کریں، اور آج صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ملک محمد قیصر المعارف جیسے سینئر فلم ساز بھی اس چوری کی زد میں آ گئے ہیں۔ہہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی، سب سے زیادہ بزنس کرنے والی، اور عالمی سطح پر مقبول ترین فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ بھی اس چوری سے محفوظ نہ رہ سکی۔ اس فلم کے سین غیر ممالک کے سینما گھروں سے ہی موبائل فون پر ریکارڈ کر کے یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر غیر قانونی طور پر اپ لوڈ کر دیے گئے۔ فلم کے وہ سین چند ہی گھنٹوں میں وائرل ہو گئے، جس پر پروڈیوسرز نے فوری شکایات درج کروائیں، عالمی DMCA کارروائی کی گئی اور یوٹیوب نے وہ تمام کلپس ہٹا دیے۔ لیکن اس واقعے نے ثابت کر دیا کہ کوئی فلم، چاہے وہ پاکستان کی سب سے بڑی بلاک بسٹر ہی کیوں نہ ہو، ان غیر قانونی نیٹ ورکس سے محفوظ نہیں۔ان تمام واقعات نے واضح کر دیا ہے کہ اگر فلم سازوں نے فوری قدم نہ اٹھایا تو آنے والی ہر فلم ریلیز سے پہلے ہی یوٹیوب پر چوری ہو جائے گی۔ پاکستانی فلم ساز پاکستان سے بیٹھ کر ہی یوٹیوب DMCA، UK IPO نوٹس، آن لائن یوکے سولیسٹرز، اور FIA سائبر کرائم کے ذریعے کارروائی کر سکتے ہیں، لیکن ضرورت شعور اور اجتماعی اقدام کی ہے۔ اگر یہ قدم ابھی نہ اٹھائے گئے تو لندن سے چلنے والا یہ غیر قانونی کاروبار پاکستان کی ہر فلم، ہر محنت، اور پوری انڈسٹری کے مستقبل کو اندھیروں میں دھکیل دے گا۔
یہ بھی پڑھیں:مودی اور پیوٹن کا پیار بڑھ گیا،بھارت کو روسی تیل کی بندش پر ٹرمپ کو کرارا جواب