ایک شخص قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکا، جو سمجھتا ہے کہ میں نہیں تو کچھ نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ ایک شخص نیشنل سکیورٹی تھریٹ بن چکا ہے، پاک فوج کے خلاف عوام کو بھڑکانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ ہم روزانہ کی بنیاد پر پاکستان اور عوام کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں، ایک شخص سمجھتا ہے کہ میں نہیں تو کچھ نہیں، ایک شخص نیشنل سکیورٹی تھریٹ بن چکا ہے، ایک شخص کا بیانیہ نیشنل سکیورٹی کیلئے تھریٹ بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم سب کو مبارکباد ہو چیف آف ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹر کا آغاز ہوگیا ہے، دنیا میں درجنوں ممالک میں چیف آف ڈیفنس فورسز کا ہیڈکوارٹر ہے، چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی پر سب کو مبارکباد دیتا ہوں۔ ہم کسی علاقائیت، لسانیت، مذہبی جھکاؤ اورسیاسی سوچ کی نمائندگی نہیں کرتے، ہم روزانہ کی بنیادپر پاکستان اورعوام کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں، ہم کسی سیاسی شخصیٹ، ایلیٹ ازم کا ایجنڈا لے کر نہیں چلتے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ اگر کوئی اپنی ذات کیلئے آرمڈ فورسز پر اٹیک کرتا ہے تو اس سے بھرپور نمٹا جائے گا، آپ اپنی سیاست خود کریں، آپ فوج کو اپنی سیاست سے دور رکھیں، کسی کو اجازت نہیں دی جاسکتی کہ افواج پاکستان اورعوام میں دراڑ ڈالے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ بالکل اجازت نہیں دی جائے گی کہ عوام کو پاک افواج کے خلاف بھڑکائیں، فتنہ الہندوستان اورپاکستان عوام کے درمیان یہی پاک افواج کھڑی ہے، کیا ایک شخص کسی اورملک کی فوج کیلئے راستہ بنانا چاہ رہا ہے، یہ کلیئر ہے کہ جو یہ چاہ رہا ہے وہ نہیں ہوسکتا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس شخص سے ملاقات کے بعد جیل سے مسلسل بیانیہ پاک افواج کے خلاف آرہا ہوتا ہے، یہ بیانیہ بناتا ہے کہ اوورسیز ترسیلات بند کردیں، کبھی یہ آئی ایم ایف کو قرض بند کرنے کا بنانیہ بناتا ہے، افواج پاکستان نےاپنے سے 8 گنا بڑی معیشت اورفوج کے سامنے کھڑے ہوکر دکھایا۔
انہوں نے کہا کہ ہم تمام سیاسی جماعتوں کی عزت کرتے ہیں، ان کی پارٹی سے پوچھیں تو کہتے ہیں پتہ نہیں فوج مخالف بیانیہ کہاں سے چلتا ہے،کون سی سیاست اجازت دیتی ہے آپ مجرم سے ملاقات کریں، اس ذہنی مریض نے دوروزقبل ٹویٹ کی ہے، اس ذہنی مریض کی ٹویٹ کو دیکھیں کہ کیسے بیانیہ بنایا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک تربیت اورتواتر کے ساتھ ٹویٹ والا کام چلتا ہے، یوکے کے اکاؤنٹس بھی منٹوں اورگھنٹوں میں کام کررہے ہیں، تمام بے نامی اکاؤنٹس پاکستان سے باہر بیٹھے ہیں، اصل بیانیہ اس ذہنی مریض نے کیا جس نے پہلا ٹویٹ کیا، ان کا سب سے بڑا سہولتکار بھارتی میڈیا ہے، انڈین را کے اکاؤنٹس ان کے ٹویٹ والے بیانیے کو چلا رہے ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ نے کہا کہ آپ نے معرکہ حق میں دیکھا کیا انڈین میڈیا پاکستان کا دوست ہے؟ بھارتی سوشل میڈیا ،انفلوئنسرز کو دیکھیں کہ کہاں سے ٹویٹ ہوتی ہے اور یہ کہاں سے بیانیہ اٹھا رہے ہیں، افغان سوشل میڈیا بھی پیچھے نہیں رہا جو خوارجیوں کے سہولت کار ہیں، ایک ذہنی مریض یہاں بیٹھ کر افواج پاکستان کے خلاف باتیں کررہا ہے۔