کشمیری رہنما یاسین ملک کی بیٹی رضیہ سلطان کی طبیعت خراب ،اسپتال منتقل
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی بیٹی رضیہ سلطان کی طبیعت خراب ہوگئی جس پر انہیں اسپتال منتقل کردیاگیاہے۔
کشمیری رہنما یاسین ملک 2019سے بھارت کی تہاڑ جیل میں قیدہیں،انہوں نے نے بھارتی عدالتوں سے انصاف لینے سے انکار کررکھاہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز یسین ملک نے اپنا مقدمہ مزید لڑنے سے انکار کرتے ہوئےسرینگر کی عدالت میں 25 صفحات پر مشتمل حلف نامہ جمع کرایاتھا۔
کشمیری حریت پسندرہنما یسین ملک نے سری نگر کی عدالت میں جمع کرائے گئے 25 صفحات پر مشتمل حلف نامے میں کہاتھا کہ بھارتی عدالتوں سے انصاف کی توقع نہیں،سزائے موت بھی مل جائے تو قبول ہے،اپنا معاملہ خدا پر چھوڑتا ہوں،بھارتی حکومت مجھے 36 سال بعد ایک جھوٹے مقدمے میں ملوث کر کے پھانسی دینے کی سازش کر چکی ہے۔
یاسین ملک نے 1990 کے سرلا بھٹ قتل کیس میں ملوث ہونے کے الزام کی دوٹوک تردیدکرتے ہوئے کہاتھاکہ سرلا بھٹ کی لاش کے ساتھ پڑے مبینہ جے کے ایل ایف نوٹ کی بنیاد پرمجھے مقدمے میں شامل کیا گیا، جے کے ایل ایف نوٹ کی ریکارڈ سے بعد ازاںُ عدم موجودگی پر یسین ملک نے سوال اٹھایا،سرلا بھٹ کے قتل سے 11 روز قبل شدید زخمی ہونے کے باعث قتل کی منصوبہ بندی یا ہدایات دینا ممکن نہیں تھا-
یہ بھی پڑھیں:آج بھی بادل برسیں گے؛محکمہ موسمیات نے اہم پیشگوئی کردی
یسین ملک کے مطابق بھارتی ایجنسیوں نے پاکستان سے تعلقات بڑھانے کو کہا اور بعد میں اسی کو میرے خلاف بطور ثبوت پیش کیا گیا،واجپائی حکومت کے دور میں اجیت دوول، برجیش مشرا اور آر کے مشرا نے پاک بھارت تعلقات میں مثبت کردار ادا کرنے کو کہا، 2019 اور 2024 کے انتخابات میں پاکستان مخالف پالیسی کے طور پر میرا نام، تصویر اور عدالتی کارروائیوں کو سیاسی بیانیے کے لئے استعمال کیا گی، سیاسی انتقام کے خلاف احتجاًجاً مزید مقدمہ نہ لڑنے کا فیصلہ کیاہے،عدالت سزائے موت بھی عائد کرے تو کشمیر کے لئے قبول ہے،عدالتی سزا قبول کرنے کا مطلب عائد جرم قبول کرنا نہیں ہے۔
یسین ملک نے حلف نامے میں طویل قید، تنہائی اور والدہ، اہلیہ اور بیٹی سے برسوں کی جدائی کا ذکرکرتے ہوئے مشعال ملک کو طویل قید اور ممکنہ پھانسی کے انتظار کی زندگی سے آزاد کرنے کی خواہش کا اظہارکرتے ہوئے کہاتھاکہ آپ نے بہادری کےساتھ میرا ساتھ دیا، میں آپ کو اپنی رفاقت سے آزاد کرتا ہوں،انہوں نے بیٹی کو دادی سے بات چیت کرتے رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہاکہ دادی کا غم آپ نے ہلکا کرنا ہے۔
یسین ملک کاکہناہے کہ اپنا مؤقف اور ضمیر کی آواز عدالت کے سامنے رکھ دی، باقی فیصلہ اللہ پر چھوڑتا ہوں-