ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر معروف تجزیہ کار سلیم بخاری کا زبردست تجزیہ ، اہم انکشافات
Stay tuned with 24 News HD Android App
(فرخ احمد)معروف تجزیہ کار سلیم بخاری نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ نے واضح کیا کہ بس بہت ہوگیا، افغانستان سرحد پار دہشت گردی ختم کرے، افغان طالبان سے سیکیورٹی کی بھیک نہیں مانگیں گے۔
24 نیوز کے مقبول پروگرام ’’سلیم بخاری شو‘‘ میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے انھوں ںے کہا کہ بات صرف یہی ہے کہ ان کی پریس کانفرنس کا فوکس دہشتگردی تھا بلکل ایسے ہی جیسا کہ انہوں نے پشاور جا کر جو پریس کانفرنس کی تھی، اس کا بھی مدعا یہی تھا اور کچھ ایسے حقائق جوکہ تحریک انصاف اپنے ووٹر سے شیئر نہیں کرتے۔
یہ دونوں ہی پریس کانفرنسز اس اعتبار سے بہت اہم ہیں کہ افغان رجیم کو کیسے ڈیل کرنا ہے اور تحریک انصاف کے نئے وزیراعلیٰ جو اپنے قد سے بھی بڑے دعوے کرتے آرہے ہیں ان کو بھی انہوں نے مشورے دیئے ہیں۔
بخاری صا حب نے کہا ڈی جی آئی ایس پی آر نے واشگاف الفاظ میں یہ واضح کر دیا ہے کہ نہ تو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے کوئی بات ہوگی اور نہ حکومت سے کوئی مذاکرات کیے جائیں گے کہ افغانستان سے کیسے ڈیل کرنا ہے۔ان کے ساتھ کیسے تعلقات ہوں گے۔یہ صوبائی حکومت کا کام نہیں بلکہ مرکز اور ریاستی اداروں کا کام ہے۔انہوں نے ڈی جی آئی ایس پی آرکا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی طرح پاکستان کی سیکیورٹی پر کمپرمائز نہیں کیا جا سکتا۔
اس سوال کے جواب میں سلیم بخاری نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم اسی پارلیمنٹ سے پاس ہوئی تھی اور انہی سیاستدانوں نے اسے پاس کیا تھا۔اب اگر ان کو اس میں کوئی کمی نظر آ رہی ہے تو آئین ان کو اختیار دیتا ہے اور یہ طریقہ کار بھی واضح ہے کہ اگر کوئی حکومت آئین میں ترمیم لانا چاہتی ہے تو وہ اس کو دو تہائی اکثریت سے پاس کرا سکتی ہے۔
لہٰذا ترمیم کا ہونا یا ترمیم کا لایا جانا کوئی غیر آئینی کام نہیں ہے، دوسری بات یہ ہے کہ اس ترمیم کی ضرورت کیوں پیش آئی اس کی وجہ یہ ہے کہ اٹھارویں ترمیم ہی تھی جس کے تحت یہ دیرینہ مطالبہ پورا کیا گیا کہ صوبائی خود مختاری ہونی چاہے۔ کوئی 22 سے 25 سال تک تمام صوبائی حکومتیں اور اسمبلیاں یہ مطالبہ بھی کرتی رہیں کہ صوبائی خود مختاری ہونی چاہے۔
اور یہ ترمیم آخر کار ہوگئی لیکن اب یہ اکائیاں مرکز کو آنکھیں دکھانی شروع کر دیں تو کیا کرنا چاہے جیسا کہ کے پی کر رہا ہے، مرکز ی حکومت جو چاہتی ہے وہ کر نہیں پاتی ہے۔ ریاستی ادارے اگر دہشتگردوں کے خلاف کاروائی کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ انکار کر دیتے ہیں اور اور کہتے ہیں کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کریں،ہم آپریشن نہیں کرنے دیں گی۔
اٹھارویں ترمیم کے ذریعے دو بڑی وزارتیں وفاق سے صوبوں کو منتقل ہو گئیں تھیں لیکن بدقسمتی سے ان دو وزارتوں میں کوئی خاص کام نہیں ہو سکا ایک ایجوکیشن اور دسری پلاننگ اینڈ ڈویژن اس لیے اب 27ویں ترمیم کے ذریعے یہ وزارتیں واپس وفاق کو دیدی جائیں گی۔
اس پر بات کرتے ہوئے بخاری صاحب نے کہا کہ اسرائیل کی غزہ اور لبنان میں سیز فائر معاہدے کی سنگین خلاف ورزیاں، تازہ حملوں میں 7 افراد شہادت اور حماس کی جانب سے غزہ امن معاہدےکے تحت مزید 3 یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کرنے کے باوجود اسرائیل کا رویہ ایک مذاق نہیں تو اور کیا ہے۔