تربت سے اسسٹنٹ کمشنر کو اغوا کرلیا گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)اسسٹنٹ کمشنر حنیف نورزئی کو بلوچستان کے ضلع تربت سے اغوا کرلیا گیا۔
کمشنر کوئٹہ محمد حمزہ شفقت نے ایکس پر ان کے اغوا کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مبینہ طور پر دہشتگردوں نے اغوا کیا ہے،انہیں اس وقت اغوا کیا گیا جب وہ اپنی فیملی کے ساتھ تھے۔
کمشنر کوئٹہ کے مطابق مبینہ دہشتگرد اے سی حنیف نورزئی کو ساتھ لے گئے جب کہ ان کی اہلیہ اور ڈرائیور کو وہیں چھوڑ گئے،واقعے کے بعد ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان کی بازیابی کی کوششیں شروع کردی ہیں۔
وہ ایران کی سرحد سے متصل ضلع کیچ کے علاقے تمپ کے اسسٹنٹ کمشنر تھے اور عید کی چھٹیوں کیلئے کوئٹہ جا رہے تھے۔
دوسری جانب بی ایل ایف نے دعویٰ کیا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف نور زئی ہماری تحویل میں ہے،بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے تنظیم کے خفیہ ونگ کی طرف سے موصولہ اطلاع پر 4 جون 2025 کو ایک کارروائی کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف نورزئی کو سرینکن کے مقام پر اُن کے اہلِ خانہ، سرکاری محافظوں اور ڈرائیور سمیت حراست میں لے لیا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انسانی اور اخلاقی اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے سرمچاروں نے اسسٹنٹ کمشنر کے اہلِ خانہ کو مکمل عزت، احترام اور تحفظ کے ساتھ رہا کر کے ان کے ڈرائیور اور محافظوں کے ساتھ ان کے گھر روانہ کر دیا جبکہ اسسٹنٹ کمشنر محمد حنیف نورزئی کو مزید تفتیش کے لیے تنظیم کی تحقیقاتی ٹیم کے حوالے کر دیا گیا ہے،تنظیم تحقیقات مکمل ہونے کے بعد اپنے فیصلے کا باقاعدہ اعلان کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: خوشخبری۔۔رواں برس اقوام متحدہ کے ادارے سلامتی کونسل میں پاکستان کا نمایاں کردار ہوگا