صدر نکولس مدورو کو نیویارک کی جس جیل میں رکھا گیا، وہ کس وجہ سے بدنام ہے؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتاری کے بعد ان کی صدارتی اقامت گاہ سے نکال کر نیویارک کے بدنام زمانہ جیل میٹروپولیٹن ڈیٹینشن سینٹر (ایم ڈی سی) منتقل کر دیا گیا ہے، جسے امریکا کی سخت ترین اور بدترین حالات والی وفاقی جیلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
امریکی ٹی وی سی این این نے جیل سے متعلق اپنی رپورٹ میں بتایا کہ یہ جیل قیدیوں کے لیے انتہائی ناگفتہ بہ حالات، شدید عملے کی کمی، قیدیوں کے درمیان تشدد اور بار بار بجلی بند ہونے کے واقعات کی وجہ سے بری شہرت رکھتی ہے۔ خود امریکی قانونی حلقوں میں اسے ایک خوفناک جگہ قرار دیا جاتا ہے۔
1990ء کی دہائی میں جیلوں میں گنجائش کے بحران سے نمٹنے کے لیے قائم کی گئی، یہ جیل متعدد ہائی پروفائل قیدیوں کی میزبانی کر چکی ہے۔
ایم ڈی سی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں قیدیوں کی جان کو مسلسل خطرہ لاحق رہتا ہے، جون 2024ء میں ایک قیدی کو چاقو مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا، ایک ماہ بعد ایک اور قیدی لڑائی کے دوران جان سے گیا تھا۔
2019 میں اس جیل کی انتظامیہ نے بجلی کے طویل تعطل کے دوران ایک پورے ہفتے تک قیدیوں کو سخت سردی میں مکمل اندھیرے میں رکھا۔ اس واقعے کے بعد امریکی محکمہ انصاف نے تحقیقات کیں، 1,600 قیدیوں کو 1 کروڑ ڈالر ہرجانہ ادا کیا گیا۔ اس جیل کی انتظامیہ کے طور طریقے ہرجانہ کی سزا ملنے کے بعد بھی نہیں بدلے۔
2019 میں ارب پتی فنانسر اور مبینہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی خودکشی کے بعد نیویارک مین ہٹن کی وفاقی جیل بند کر دی گئی تھی، اس کے بعد سے ایم ڈی سی نیو یارک شہر کی واحد وفاقی جیل رہ گئی ہے۔
وینزویلا کے صدر نکولس مدورو کو کاراکس مین ان کی مھفوظ صدارتی اقامت گاہ سے زبردستی اٹھوا کر امریکہ لایا گیا اور اب نیویارک میں امریکہ کی سب سے گندی جیل میں بند کر دیا گیا ہے۔ انہیں نیویارک کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ عدالت میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر مدورو پر تھوپے ہوئے منشیات اور دہشت گردی کے الزامات ک کی حقیقت سامنے آ جائے گی۔
نکولس مدورو وینزویلا میں بائیں بازو کی سیاسی پارٹی کے سینئیر رہنما ہیں اور 2013 میں سابق صدر ہوگو شاویز کے انتقال کر جانے کے بعد امریکہ کے مسلسل عتاب کا شکار رہنے والے اس ملک کے صدر بنے تھے۔ نکولس مدورو گزشتہ سال 2024 میں ہونے والے ہنگامہ خیز الیکشن مین جنت کر دوبارہ صدر بنے تھے۔ مدورو کو ہفتے کی علی الصبح صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر ان کی صدارتی اقامت گاہ سے اٹھا کر نیویارک پہنچا دیا گیا تو کاراکس میں حکومت چلانے کے لئے مدورو کی نائب صدر نے سپریم کورٹ کے حکم پر حلف لے کر وہی کام شروع کر دیئے جو مدورو کر رہے تھے۔ اس سارے ہنگامہ سے تبدیلی صرف ایک آئی کہ صدر مدورو اپنی صدارتی اقامت گاہ سے نکل کر نیویارک کی ایک گندی جیل میں پہنچ گئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار کی منتقلی تک وینزویلا کے معاملات خود چلانے، تیل کے ذخائر قبضے میں لینے اور امریکی تیل کمپنیوں کو وینزویلا بھیجنے کا اعلان کیا۔ لیکن کاراکس میں امریکہ کے صدر کی ڈکٹیشن کو قبول کرنے والا کوئی نہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کل اپنی وائٹ ہاؤس کی پرہجوم نیوز کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز امریکا کی ہر بات ماننے کو تیار ہیں۔ لیکن نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے اپنے عوام سے خطاب مین وضاحت کے ساتھ بتایا کہ وہ وہی کچھ کریں گی جو صدر نکولس مدورو کر رہے تھے۔
وینز ویلا کی صدارتی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد ڈیلسی روڈریگز نے نکولس مادورو کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وینزویلا کے واحد صدر نکولس مدورو ہی ہیں۔ وینزویلا کسی ملک کی کالونی نہیں بنے گا۔
وینزویلا کے خلاف امریکی فوجی کارروائی پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس کل ہوگا، جبکہ امریکی حملے کے بعد وینزویلا کی تیل برآمدات وقتی طور پر مفلوج ہوگئی ہیں۔ وینزویلا کے تیل کا سب سے بڑا گاہک چین ہے۔