لوپھربسنت آئی؛ملکہ پکھراج کو بچھڑے22برس بیت گئے

 غزل ہی نہیں ٹھمری،بھجن اورموسیقی کی دیگر اصناف میں بھی ملکہ حاصل تھا

Feb 04, 2026 | 11:10:AM
لوپھربسنت آئی؛ملکہ پکھراج کو بچھڑے22برس بیت گئے
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ایم وقار)صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی کی حامل اورمعروف غزل گائیکہ ملکہ پکھراج کو مداحوں سے بچھڑے22برس بیت گئے، لیکن ان کے سدا بہار گیتوں کی چاشنی  آج بھی برقرار ہے۔
برصغیر کی لیجنڈ غزل گائیکہ ملکہ پکھراج 1914 ء کو جموں کشمیر میں پیدا ہوئیں، قیام پاکستان کے بعد پاکستان منتقل ہو گئیں اور لاہور کو اپنا مسکن بنایا،ان کی شبیر حسین شاہ سے شادی ہوئی تھی جنہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن کا مشہور اردو ڈرامہ جھوک سیال بنایا تھا،وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ سرکاری افسر اور فن موسیقی کے بہت بڑے رسیا تھے، اکثر موسیقی کی محفلیں سجایا کرتے تھے جن میں پاکستان کے بڑے بڑے نامور گلوکار حصہ لیا کرتے تھے، ملکہ پکھراج کی کامیابی میں ان کے شوہرکے تعاون اور حوصلہ افزائی کا بہت ہاتھ تھا، ان کے دو بیٹیاں اور چاربیٹے پیداہوئے۔


ملکہ پکھراج نے غزل ہی نہیں ٹھمری،بھجن اورموسیقی کی دیگر اصناف میں بھی فن کا خوب مظاہرہ کیا، حفیظ جالندھری کی بہت سی غزلیں اور نظمیں گائیں جن میں سے کچھ بہت مشہور ہوئیں، خاص طور پر’’ابھی تو میں جوان ہوں‘‘، ریڈیو پاکستان کے موسیقی کے پروڈیوسر کالے خان نے زیادہ تر ان کے لیے دھنیں بنائی تھیں،اس کے علاوہ  عدم کی غزل’’ وہ باتیں تیری وہ فسانے تیرے‘‘ ان کی شناخت سمجھی جاتی تھی۔
ان کی چھوٹی بیٹی طاہرہ سیدبھی اپنی والدہ کی طرح ڈوگری اور پہاڑی انداز کی گائیکی میں مہارت رکھتی ہیں،انہوں نے بھی گائیکی میں بہت نام کمایاہے۔ ریڈیو پاکستان کے آوازکے خزانے میں طاہرہ سید کے گائے ہوئے گانوں کے ریکارڈ محفوظ ہیں جو گاہے گاہے نشر ہو تے رہتے ہیں۔
ملکہ پکھراج کا نام حمید ہ تھااورصرف تین سال کی عمر میں استاد اللہ بخش کی شاگرد بن گئیں اور فن گائیکی کے رموز سیکھے،جب وہ پانچ سال کی تھیں تو دہلی چلی گئیں جہاں استاد مومن خان، استاد مولا بخش تلونڈی اور استاد عاشق علی جیسے نامور موسیقاروں سے موسیقی کی تربیت پائی،انہیںٹھمری، غزل، بھجن اور راگ پہاڑی گانے میں ملکہ حاصل تھا، انکے گیت برصغیرپاک و ہند میں یکساں پسند کیے گئے،انہوں نےاگرچہ بہت کم گایا، لیکن جو بھی گایا، اسے امر کردیا،وہ اردو اور فارسی پر عبور اور ادب کا اعلیٰ ذوق رکھتی تھیں۔ 


 ملکہ پکھراج نے ہزاروں غزلیں، نغمے، گیت اور گانے گائے لیکن وہ جہاں بھی جاتیں’’ابھی تو میں جوان ہوں‘‘ کی فرمائش ضرور ہو تی تھی،ان کے مقبول گیتوں میں لو پھر بسنت آئی‘پیا باج پیالا پیا جائے نا،علامہ اقبال کی غزل ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں، غالب اور فیض کی متعدد غزلیں بھی شامل ہیں، اس کے علاوہ علامہ اقبال کی مسجد قرطبہ کو ملکہ پکھراج نے جس لحن سے پیش کیا اس نے نظم میں نئے زاویے پیدا کر دیے،ان کی ایک نظم ”ہائے میری انگوٹھیاں“اس قدر مشہور ہوئی کہ اس مصرعے کوعام بول چال میں مثال کے طور پر بھی استعمال کیا جانے لگاتھا۔

یہ بھی پڑھیں:معروف بھارتی موسیقار ایس پی وینکٹیش چل بسے
 ملکہ پکھراج 4فروری 2004 کو اس جہان فانی سے کوچ کر گئی تھیں لیکن ان کے گائے سدا بہار گیتوں کا سحر آج بھی شائقین کے دلوں پر برقرار ہے،انہوں نے اپنی خود نوشت ”بے زبانی زباں نہ ہو جائے“ کے عنوان سے لکھی تھی جو اردو کے علاوہ متعدد زبانوں میں شائع ہو چکی ہے۔