ایس ای او ؛مودی چین کیساتھ اتحاد کا حصہ بننے کی کوشش کر رہے تھے،سلیم بخاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(فرخ احمد)سینئر صحافی سلیم بخاری نے کہا ہے کہ مودی تازہ تازہ امریکی اتحاد سے الگ ہوکر چین کے ساتھ ایس سی او اتحاد کا حصہ بننے کی کوشش کر رہے تھے لیکن اس میں وہ کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں اس کا تعین تو آنے وال وقت ہی کرے گا کیونکہ ایسا کچھ نہیں ہوا کہ ہم یہ سمجھیں کہ کوئی بات بن گئی ہے۔
پروگرام ’’سلیم بخاری شو‘‘ میں سینئر صحافی نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو درپیش چیلجز اور مستبقل کے منظر نامے پربھی تجزیہ کیا، ان کا کہنا تھا کہ چینی صدر شی جن پنگ پرو پاکستان ہے اور صدر اس کا اظہار وہ بین الاقوامی اور دو طرفہ فورمز پر کیا ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس میں پاکستان اور ہندوستان کے ہیڈ آف سٹیٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی تازہ تازہ امریکی اتحاد سے الگ ہوکر چین کے ساتھ ایس سی او اتحاد کا حصہ بننے کی کوشش کر رہے تھے لیکن اس میں وہ کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں اس کا تعین تو آنے وال وقت ہی کرے گا کیونکہ ایسا کچھ نہیں ہوا کہ ہم یہ سمجھیں کہ کوئی بات بن گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لگتا ایسا ہے کہ ابھی بھارت کو امریکہ سے مزید ہزیمت اٹھانی پڑے گی،انہوں نے جو امریکہ کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی ہم ڈٹ گئے ہیں،یہ سب عوامی رد عمل کو اپنی جاب مبذول کرانے کی کوشش ہے کیونکہ الیکشن کا دور ہے لیکن منافقت کا عالم یہ ہے کہ دوسری طرف امریکہ کے آگے لیٹے ہوئے ہیں اور امریکہ بہادر کو کہ رہے ہیں کہ بھارت صفرٹیرف کر سکتا ہے لیکن امریکی صدر ٹرمپ نے یہ کہ کر ان کی عزت خاک میں ملا دی ہے کہ اب وقت گزر چکا ہے۔
سلیم بخاری نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکزبنے رہے اور ان کی تقریر کو عالمی سطح پر بڑی پزیرائی ملی ہے ،وزیر اعظم نے 3 نکات پر ایس سی او کانفرنس کی توجہ دلائی اور تینوں نکات شنگھائی تعاون تنظیم کے اعلامیہ میں شامل ہیں،ایک تو یہ کہ پاکستان غیر ملکی دہشتگردی کا شکار ہے جس کے حوالے کے لیے انہوں نے دہشتگردی کے واقعات کا ذکر بھی کیا جس کو کانفرنس نے تسلیم کیا اورپاکستان کا موقف اعلامیہ میں موجود تھا،دوسری طرف ان سانحات کی ذمہ داری بغیر نام لیےدو ممالک پر ڈالی،سب جانتے ہیں کہ ان دہشتگردی کے واقعات کے پیچھے افغانستان اور بھارت کا ہاتھ ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کے معاملے پر بھی پاکستانی موقف کی تائید کا ثبوت اعلامیہ میں ہے ، غزہ پر جو ظلم کا بازار گرم ہے اور مسلمانوں کی نسل کشی ہور ہے، اس پر بھی پاکستانی وزیر اعظم نے بڑی کامیابی سے اپنا موقف پیش کیا اور منوایا،تیسری بات جو پاکستان نے منوائی جو سب سے زیادہ اہم ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے جو ایران پر حملہ کیا وہ وہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی تھی،اس کی شدید الفاط میں مزمت کرتے ہیں۔
کالا باغ ڈیم سے متعلق چلنے والی حالیہ خبرو ں پرسلیم بخاری نے کہا کہ کے پی جو کہ سب سے زیادہ اس ڈیم کا مخالف تھا اس کے نمائندے گنڈا پور جو کہ ایک پٹھان تو ہے نا! ان کے منہ سے اس قسم کے خیالات کا اظہار کرنا بہت خوش آئند ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ڈیم مکمل کرنے کے لیے کوئی صوبہ پیسے دینے کو تیار نہیں، لیکن میں اب بھی پیسے دینے کو تیار ہوں، کالا باغ ڈیم سے پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا کو پانی ملے گا، سندھ کو کالا باغ ڈیم پر ایشوز ہیں، میز پر بیٹھیں بات کریں، کالا باغ ڈیم ملک کی ضرورت ہے سیاست کی وجہ سے یہ منصوبہ رکا ہواہے،کہا کہ یہ ایک قومی خدمت ہےبخاری صا حب نے کہا کے ڈیم کا تو نہیں پتہ کہ بنے گا کہ نہیں لیکن گنڈا پور کے اس بیان نے نا جانے کتنے گناہ معاف کرادیے ہیں۔
تحریک انصاف کا اسمبلی سے بائیکاٹ کا فیصلہ احمقانہ؛
سلیم بخاری تحریک انصاف کااسمبلی سے بائیکاٹ کے فیصلے کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک کہاوت ہے جس شاخ پر بیٹھے ہیں اسی کو کاٹ رہے ہیں، تحریک انصاف یہ اب سے نہیں جانے کب سے یہ کرتی آرہی ہے،وہ یہ حماقتیں جب سے کر رہی ہے جب سے انہوں نے کے پی اسمبلی تحلیل کی اور پھر پنجاب اسمبلی توڑی اور اپنی سیاسی اور پارلیمانی طاقت کو اپنے ہاتھوں سے ہی ختم کیا،اب جو کمیٹیوں سے استعفے دئے ہیں اور باقی رہی سہی کسر نااہلیوں نے پوری کر دی تو اس کا کون ذمہ دار ہے تحریک انصاف خودکشی پر اتر آئی ہے جب کو ئی خودکشی کرنے کا فیصلہ کر لے تو پھر کوئی کچھ نہیں کر سکتا،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اپنی دشمن خود ہے اس لیے اس فیصلے کو احمقانہ فیصلہ ہی کہا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے نئے صوبوں اور صدارتی نظام کی بھی حمایت کردی