آؤ جاپان چلیں (پانچویں قسط )

حافظ شہباز علی  hafee23@gmail.com

Oct 03, 2025 | 22:09:PM
آؤ جاپان چلیں (پانچویں قسط )
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

میں  اوراشفاق الرحمن ہاشمی ،عابد ڈار صاحب کی دعوت پر نیو پاکستان ریسٹورنٹ پہنچے تو وہاں عابد حسین ڈار صاحب نے رانا علی شان اور اپنے بیٹوں واصف ڈار اور سالک ڈار کے ہمراہ ہمارا استقبال کیا۔ یہاں ہم  قیمے والے نان ، باربی کیو میں مٹن بیف کباب ،چکں ملائی بوٹی ،مٹن ہانڈی/ مٹن قورمہ سے لطف اندوز ہوئے۔ قیمے والا نان انتہائی لذیذ تھا۔

دوران گفتگو  عابد حسین ڈار صاحب کے ساتھ ڈاکٹر اسد عباس شاہ کا تذکرہ شروع ہوا تو پھر بس تقریبا ایک گھنٹے تک ڈاکٹر صاحب کا تذکرہ رہا،عابد ڈار صاحب کے نو عمر بیٹوں واصف ڈار اور سالک ڈار کو روانی سے پنجابی بولتا دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی کیوں کہ اپنی سر زمین سے ہزاروں میل دور جاپان میں پاکستانی بچوں کو ٹھیٹھ پنجابی بولتا دیکھ کر خوشی ہوئی کہ یہ لوگ اپنی دھرتی ماں پنجاب کی ماں بولی انتہائی مہارت سے بول رہے تھے۔ عابد ڈار صاحب کے دوست رانا علی شان کے ساتھ بھی خاصی دلچسپ گفتگو رہی،، عابد ڈار نے ٹوکیو میں بھی پاکستان جیسا ماحول بنا رکھا ہے اور کوئی بھی پاکستانی دوست اگر ٹوکیو جائے تو یہ ہو نہیں سکتا کہ عابد ڈار اس کی میزبانی نہ کریں ،،۔ عابد ڈار اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ خوشگوار ملاقات ہے بعد رات تقریبا ساڑھے گیارہ بجے ہم نے واپسی کا سفر شروع کیا ۔
اگلی صبح یعنی 17 ستمبر کا دن اس لحاظ سے اہم تھا کہ اس روز فخر پاکستان ارشد ندیم کے ایونٹ جیولن تھرو کا کوالیفائنگ راؤنڈ شیڈول تھا۔ میں صبح جلدی گھر سے نکلا اور اشفاق الرحمن ہاشمی صاحب نے روزانہ کی طرح مجھے میڈورینو اسٹیشن پر ڈراپ کیا یہاں سے میں آکھی عبارہ اور پھر یوٹوسایا اسٹیشن پہنچا اس روز مجھے ٹوکیو کے نیو اوٹانی ہوٹل جانا تھا جہاں پر ورلڈ اتھلیٹکس کے تمام ڈیلیگیٹس ٹھہرے ہوئے تھے ۔ آکھی عبارہ سے یوٹوسایا اسٹیشن کے لیے ٹکٹ لیتے وقت بے دھیانی میں میرا پرس زمین پر گر گیا اب میر ے قریب سے گزرنے والے جاپانی شہری نے میرا کاندھا تھپتھپا کر زمین پر گرے ہوئے پرس کی جانب اشارہ کیا تاہم میں اس کا اشارہ نہ سمجھ سکا اور ٹکٹ مشین سے ٹکٹ لینے کا عمل مکمل کرنے لگا وہ شہری تقریبا 25 سے 30 قدم دور جاکر دوبارہ واپس آیا اور میرا پرس زمین سے اٹھا کر مجھے تھمایا اور مجھ سے کہا کہ کچھ دیر پہلے اس نے پرس اٹھانے کے لیے مجھے متوجہ کیا تھا۔ میں نے اس جاپانی شہری کا شکریہ ادا کیا تو اس نے تین سے چار مرتبہ سر جھکا کر جوابی شکریہ ادا کیا ۔ یہ دیکھ کر میں اس قوم کی تہذیب و تمدن کے بارے میں سوچنے لگا یقین جانیں جاپانی لوگوں میں احساس کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔

بہر کیف میں یوٹوسایا اسٹیشن سے نکل کر ہوٹل  نیو اوٹانی  پہنچاجہاں ایشین اتھلیٹکس فیڈریشن کے نائب صدر اور میرے محسن میجر جنرل (ر) محمد اکرم ساہی اور صدر اتھلیٹکس فیڈریشن آف پاکستان بریگیڈیئر (ر) وجاہت حسین ساہی سے ملاقات ہوئی ۔ جنرل اکرم ساہی صاحب کے ہمراہ سٹار بکس کافی پی اور ورلڈ اتھلیٹکس چیمپئن شپ کے حوالے سے مختلف امور پر بات چیت ہوئی جنرل اکرم ساہی اور بریگیڈیئر وجاہت حسین ساہی ارشد ندیم کے حوالے سے خاصے پر امید تھے اور ان کہ کامیابی کے حوالے سے دعا گو بھی تھے سٹار بکس پر کافی پینے کے بعد ہم ہوٹل نیو اوٹانی دوبارہ واپس پہنچے وہاں مجھے ورلڈ اتھلیٹکس کے زیر اہتمام جاری سمینار میں شرکت کا موقع ملا ۔ اس سمینار اور پھر ہوٹل کی لابی میں دنیا بھر سے آئے ہوئے اتھلیٹکس کے مندوبین سے ہیلو ہائے کا موقع بھی ملا۔ میں نے ایشین ، افریقن اور یورپین ممالک کی فیڈریشنز کے مندوبین اور عہدیداروں کو نائب صدر ایشین اتھلیٹکس میجر جنرل محمد اکرم ساہی کے پاکستان اتھلیٹکس کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے دیکھا اور جس پر بطور پاکستانی مجھے بے حد خوشی  ہوئی کہ پاکستان اتھلیٹکس کو عالمی سطح پر سراہا جارہا ہے ۔ میرے لیے سرپرائز تھا کہ ایشین اتھلیٹکس کے لوگ ارشد ندیم کے علاوہ بھی ہمارے اتھلیٹس جن میں شجر عباس ، یاسر سلطان اور دیگر اتھلیٹس کو بھی پہچانتے ہیں۔ میں کئی ممالک کے اتھلیٹکس عہدیداران کو ارشد ندیم کے لیے جنرل ساہی کو گڈلک کہتے ہوئے بھی سنا۔

ہوٹل نیو اوٹانی میں تین گھنٹے کا وقت گذار کر ہماری اگلی منزل نیشنل اسٹیڈیم ٹوکیو تھا جہاں اس روز بھی کافی مقابلے شیڈول تھے مگر میری توجہ کا بنیادی مرکز  جیولن تھرو کا کوالیفائنگ راؤنڈ تھا،نیرج چوپڑا ،جولین ویبر ، اینڈریسن پیٹرس نے تو باآسانی فائنل کے لیے کوالیفائی کرلیا تاہم اولمپکس گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم جن کو اس چیمپئن شپ کے لیے ہارٹ فیورٹ قرار دیا جارہا تھا کوالیفائنگ راؤنڈ میں پہلی دو تھروز  اچھی نہ کرسکے جس پر مجھ سمیت اسٹیڈیم میں موجود ہر پاکستانی کو تشویش ہوئی تاہم فخر پاکستان ارشد ندیم نے تیسری تھرو 85 میٹر سے اوپر پھینک کر فائنل کے لیے کوالیفائی کرلیا،،،ارشد ندیم کے فائنل کے لئے کوالیفائی کرتے ہی یوں سمجھئے کہ سارے دن تھکاوٹ اتر گئی ،، ادھر پول والٹ فائنل میں سوئٹزرلینڈ کے مونڈو ڈوپلینٹس Mondo DUPLANTS  نے 6.30 میٹر کے ساتھ نیا ورلڈ ریکارڈ بناکر گولڈ میڈل اپنے نام کیا،،، تو دوسری جانب ہیمر تھرو میں کیمرین راجرز نے 80.51 میٹر تھرو پھینک کر گولڈ میڈل اپنے نام کیا ۔مونڈو ڈپلیسنٹس نے مسلسل تیسری مرتبہ ورلڈ اتھلیٹکس چیمپئن شپ کا ٹائٹل اپنے نام کیا اور یہ ان کے کیرئیر کامجموعی طور پر 14 واں ریکارڈ تھا ۔ مونڈو ڈوپلینٹس کا میڈیا زون میں گفتگو میں کہنا تھا کہ وہ اپنے اعزاز کا دفاع کرنے کا ہدف بناکر آئے تھے اپنی فٹنس کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس فٹنس کو برقرار رکھنے کے لیے وہ کوچز اور سپورٹ سٹاف کے پلان عمل کرتے ہیں ، مونڈو کو قریب سے دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ اتھلیٹ بنا ہی پول والٹ کے لیے ہے اور ایک کے بعد ایک ریکارڈ توڑنا ان کا بائیں ہاتھ کا کھیل دکھائی دیتا ہے مگر یہ اتنا آسان نہیں بلکہ مونڈو ایک پورے ڈیویلپمنٹ پلان سے گذر کر آئے ہیں ان کے کوچز کو معلوم ہے کہ کب ان کو peak پر لے جانا ہے کس وقت کتنی اور کیسی ٹریننگ کروانی کے کب اور کیسی خوراک لینی ہے ۔

گذشتہ قسط میں 1500 میٹر کی ورلڈ چیمپئن کیپیگون کا ذکر ہوا تھا کیپگون کا کہنا تھا کہ 16 ستمبر سے چار ماہ قبل تک انہوں نے اپنا پسندیدہ کھانا نہیں کھایا بلکہ چار ماہ سے زائد وقت سے وہ صرف اپنے کوچز اور نیوٹریشن ٹیم کے بنائے ہوئے ڈائٹ پلان پر عمل کررہی ہیں تاہم اب اپنا ہدف حاصل کرنے کے بعد اپنی پسند کے کھانوں سے لطف اندوز ہوں گی ۔ کیپگون اور مونڈو کی کامیابیاں اس بات کی عکاس ہیں کہ ان کا کوچنگ اور سپورٹ سٹاف کس حدتک اپنے اتھلیٹ کا خیال رکھتا ہے ان کو ایک گرام اضافی خوراک بھی نہیں دی جاتی۔ بہر کیف 17 ستمبر کو ارشد ندیم کے فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے کے بعد ہم لوگ خاصے خوش تھے لیکن کوالیفائنگ راؤنڈ میں ارشد ندیم کی پہلی دو تھروز لمحہ فکریہ بھی تھیں ارشد کے فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے کے بعد ڈاکٹر باجوہ سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے کہا کہ فکر کی کوئی بات نہیں ارشد مکمل فٹ ہیں۔ ڈاکٹر باجوہ کا کہنا تھاکہ وہ ارشد ندیم کو فائنل آئندہ 14 سے 16 گھنٹے میں فائنل کے لیے تیار کرلیں گے اور ارشد ندیم فائنل میں بہترین کارکردگی دکھائیں گے۔ دوسری جانب جاپان میں مقیم پاکستانی باشندے بھی ارشدندیم کے فائنل میں پہنچنے پر بے حد خوش تھے۔ ارشد ندیم اور نیرج چوپڑا کے فائنل میں پہنچنے پر اس مقابلے کو پاک بھارت ٹاکرے کا نام دیا جانے لگا اب ہر کسی کو 18 ستمبر کے روز جیولن تھرو فائنل کا انتظار تھا۔ 
(جاری ہے )

دیگر کیٹیگریز: بلاگ
ٹیگز: