نورِ سحرمیں’’ سورۃ القارعہ کے تفسیری معارف‘‘موضوع پر بصیرت افروز نشست
جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ سورۃ القارعہ میں قیامت کی ہولناکیاں نہایت پر تاثیر انداز میں بیان کی گئی ہیں، قیامت کے دن لوگ پھیلے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے اور روئی کی مانند اڑتے دکھائی دیں گے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)معروف پروگرام نورِ سحرمیں ایک بصیرت افروز نشست کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع سورۃ القارعہ کے تفسیری معارف تھا۔
پروگرام کے میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ سورۃ القارعہ میں قیامت کی ہولناکیاں نہایت پر تاثیر انداز میں بیان کی گئی ہیں، قیامت کے دن لوگ پھیلے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے اور روئی کی مانند اڑتے دکھائی دیں گے۔
انہوں نے حال ہی میں خیبر پختونخواہ میں آنے والے قدرتی مناظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک چھوٹا سا عکس تھا اُس قیامت کا، جو ربِ کائنات ہمیں دکھانا چاہتا ہے تاکہ ہم سبق حاصل کریں۔
پروفیسر احسن اویس مصطفوی نے سورۃ القارعہ کو ایمان بالآخرت کو مضبوط کرنے کا ذریعہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ قیامت کے دن انسان تین گروہوں میں تقسیم ہوں گے،(1)بلا حساب و کتاب جنت میں داخل ہونے والے خوش نصیب،(2) وہ جن کے نیک و بد اعمال برابر ہوں گے،اللہ انہیں معاف کر دے چاہے تو انہیں سزا دے ،(3)وہ جن کے اعمال دوسروں کے حقوق کی ادائیگی میں ختم ہو جائیں گے اور انہیں تہی دامن کر دیں گے۔
انہوں نے تفسیر مظہری کے حوالے سے بتایا کہ بعض لوگوں کے نامۂ اعمال میں صرف اللہ کے خوف سے بہائے گئے آنسو ہی ان کی نجات کا ذریعہ ہوں گے۔
پروفیسر حافظ ناصر محمود نے ایمان بالآخرت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یومِ آخرت کا عقیدہ اسلام کے بنیادی ارکان میں شامل ہے اور یہ انسان کے عقیدے کو پختہ بناتا ہے۔
انہوں نے قرآن پاک کی مختلف آیات کے حوالے سے بتایا کہ کفار کے اعتراضات کا اللہ تعالیٰ نے مضبوط دلائل سے جواب دیا اور دوبارہ زندہ کیے جانے کی قدرت کو بار بار بیان کیا۔
دینی سکالر امیر حمزہ نے کہا کہ عربی زبان میں لفظ کے حروف کی تعداد اس کے معنی و تاثیر میں قوت پیدا کرتی ہے۔
سورۃ القارعہ کے الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا جو منظر پیش کیا ہے، وہ آج کی جدید سائنس بھی نہیں دکھا سکی۔
ان کے مطابق قیامت مخصوص ان لوگوں پر آئے گی جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کا انکار کریں گے اور سرکشی میں حد سے بڑھ جائیں گے۔