ٹرمپ فارمولے میں فلسطین کی آزادی کا کہیں ذکر نہیں ہے؛ سلیم بخاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(فرخ احمد) سینئر تجزیہ کار سلیم بخاری نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے وزیر اعظم اور ڈپٹی وزیر اعظم نے بیان دیا کہ جو ٹرمپ کی طرف سے جومعاہدی پیش کیا گیا یہ تبدیل شدہ معاہدہ ہے،ہم نے جو نکات صدر ٹرمپ کے ساتھ طے کیے تھے وہ اس میں شامل نہیں ۔
سلیم بخاری نے کا کہنا تھا کہ اس فارمولے میں فلسطین کی آزادی کا کہیں ذکر نہیں ہے حالانکہ پاکستان نے عالمی قوانین، انسانی حقوق اورانسانی ہمدردی کے قوانین کے احترام پر زور دیا، اسرائیل کو اس کے بار بار کے جرائم پر جوابدہ بنانے کا مطالبہ کیا جب کہ پاکستان نے آزاد، خودمختار اور قابل عمل ریاستِ فلسطین کے قیام کی حمایت کی ہے جو 1967 کی سرحدوں کے مطابق قائم ہو اور اس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
سلیم بخاری کے مطابق یہی شکایت جو آٹھوں مسلم سربراہان ٹرمپ سے ملنے گئے تھے انہوں نے بھی کی تھیں جو کہ منوائی گئیں تھیں ان کے آنے کے بعد وہ غائب کر دی گئیں ہیں،انہوں نے ان آٹھوں لیڈران سے استفسار کیا کہ اگر اپ کی ترامیم کو شامل نہیں کیا گیا تو آپ اس فارمولے کو مسترد کیوں نہیں کرتے،اس کی حمایت کا اعلان کیوں کر رہے ہیں،اس کا نتیجہ کیا ہوا کہ جو اوسلو اکارڈ میں دو ریاستی حل تجویز کیا گیا تھا اس کا سرے سے ہی اس فارمولے میں ذکر نہیں ہے۔
غزہ کی طرف امداد لے کر جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیل نے دھاوا اور فلوٹیلا میں موجود پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت متعدد افراد کو اسرائیلی فورسز کی جانب سے حراست میں لینے پر سینئر تجزئیہ کار کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل واٹرز میں کس حیشیت میں فلوٹیلا کو روک کر ان کشتیوں میں سوار لوگوں کو گرفتار کر رہا ہے،اسرائیل کو کس نے اختیار دیا ہے کہ وہ انٹرنیشنل واٹر کے اندر ہونے والی کسی بھی سوشل ایکٹیوٹی کرنے والے لوگوں کو گرفتار کرے۔ گلوبل صمود فلوٹیلا روکنے کی شدید مذمت کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ فلوٹیلا میں40 سے زائد کشتیوں پر 500 بین الاقوامی کارکنان محصور غزہ کے عوام کے لیے امداد لے جارہے تھے، اسرائیل کا انسانی ہمدردی کےکارکنان کو حراست میں لینا عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے اور نہتے شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
سلیم بخاری نے کہا کہ غزہ پر غیرقانونی محاصرہ 2 ملین سے زائد فلسطینیوں کو اذیت اور محرومی میں مبتلا کیےہوئے ہے، امدادی سامان کی راہ میں رکاوٹ چوتھے جنیوا کنونشن کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
آزاد کشمیر میں صورتحال ۔۔۔ذمہ دار کون ؟
سلیم بخاری نے اپنی رائےکا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی سیاسی معاشرے میں کسی بھی مسئلے کا سب سے پہلا حل ڈائیلاگ ہوتا ہے اگر مزاکرات ناکام ہوجائیں توکوئی بھی جمہوری معاشرہ ملک اپ کو احتجاج کا حق دیتا ہے لیکن پر امن احتجاج ہر کسی کا حق ہے لیکن اگر احتجاج کو خونی رنگ دیں گے تو وہ جمہوری حق نہیں رہتا اور اپ پر ایکشن واجب ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں جاری احتجاج کو مذاکرات سے حل کرنے کے لیے وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار، رانا ثنااللہ، طارق فضل چوہدری، احسن اقبال، سردار یوسف، پیپلزپارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف اور قمر زمان کائرہ پر مشتمل ایک کمیٹی وزیر اعظم پاکستان نے بنائی ہے جو کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات کو سنیں کیونکہ مسائل کا حل مذاکرات سے ہی ممکن ہے، کوشش ہے جتناجلد ممکن ہو صورتحال کو معمول پرلایاجائے اور امید کی جارہی ہے کہ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر معاملات حل ہو جائیں گے ۔