امریکہ اس بار ’’کام مکمل کیے بغیر‘‘ ایران سے نہیں نکلے گا ، ٹرمپ کا فلوریڈا میں اعلان

May 03, 2026 | 17:53:PM
 امریکہ اس بار ’’کام مکمل کیے بغیر‘‘ ایران سے نہیں نکلے گا ، ٹرمپ کا فلوریڈا میں اعلان
کیپشن: فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) امریکہ کے صدر ڈر ڈونلڈ ٹرمپ نے  کہا ہے کہ امریکہ  ایران کے ساتھ جاری جنگ سے جلد بازی میں پیچھے نہیں ہٹے گا، ایسا کرنے سے مسئلہ دوبارہ سر اٹھا سکتا ہے۔

نیوز ایجنسی  روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے آج فلوریڈا میں گفتگو کرتے ہوئے کہا،  امریکہ اس بار ’’کام مکمل کیے بغیر‘‘ ایران سے نہیں نکلے گا تاکہ چند سال بعد دوبارہ ایران کے ساتھ اسی نوعیت کے بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ 

فلوریڈا میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر امریکہ نے ایران جنگ سے جلدی میں انخلا کیا تو  تین سال بعد یہی مسئلہ دوبارہ پیدا ہوسکتا ہے۔ اس بار مکمل اور دیرپا حل ضروری ہے۔   ایران  کی جنگ کو امریکہ درست طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے اور وہ جنگ کے کسی بھی عارضی معاہدے یا حکمت عملی کو قبول نہیں کریں گے۔

 صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں یہ واضح نہیں کیا کہ امریکہ کون سے کام کو مکمل کیئے بغیر واپس نہیں جائے گا،  تاہم اس سے قبل وہ متعدد بار  ایران کے نیوکلئیر  پروگرام کے مکمل خاتمے اور میزائل پروگرام کو  روکنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔

حالیہ جنگ سے پہلے امریکہ نے صرف تین نیوکلئیر سائٹس پر ہو رہا کام روکنے کے لئے ان سائٹس پر بی ٹو طیاروں سے بھاری بم گرائے تھے۔امریکہ نے جون 2025 میں ایران کے خلاف "آپریشن مڈنائٹ ہیمر" (Operation Midnight Hammer) کے تحت جن تین اہم جوہری (نیوکلیئر) تنصیبات پر بمباری کی تھی، ان مین سے ایک   فردو (Fordow) ہے۔  یہ زیر زمین نیوکلئیر انرچمنٹ کا مرکز ہے جو پہاڑ کے نیچے واقع ہے۔ دوسرا حملہ  نطنز (Natanz) نیوکلئیر کمپلیکس پر کیا گیا تھا جو  ایران کا سب سے بڑا   نیوکلئیر انرچمنٹ کا مرکز ہے۔

تیسرا حملہ  اصفہان (Isfahan) میں جوہری تحقیق اور افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے مرکز  پر کای گیا تھا۔ 

  اس بمباری کے نتیجہ میں تینوں نیوکلئیر سائتس پر  جاری کام عملاً رک گیا تھا اور ایران کی افزودہ یورینیم کا بڑا ذخیرہ بھی مبینہ طور پر اصفہان کی زیر زمین نیوکلئیر لیبارٹری سے متصل کسی  گودام میں پڑا ہوا دب گیا تھا۔ 

ایران امریکہ حالیہ مذاکرات میں اب تک سامنے آنے والا اہم تنازعہ افزودہ یورینیم کی ایران سے باہر منتقلی کا امریکہ کا مطالبہ ہے۔

فلوریڈا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سٹرانگ ہولڈ ہے۔ اگرچہ وہ نیویارک سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن 2019 میں انہوں نے اپنی سرکاری رہائش گاہ نیویارک سے تبدیل کر کے فلوریڈا (مار-اے-لاگو) منتقل کر لی تھی۔   ایران جنگ کے حوالے سے ٹرمپ کو امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ووٹروں کی شدید مخالفت کا سامنا ہے لیکن ری پبلکن پارٹی کے زیادہ ووٹرز والے علاقوں میں صورتحال اس کے برعکس ہے، فلوریڈا بھی ان علاقوں مین شامل ہے جہاں بظاہر ٹرمپ کی حمایت میں کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ 

یہ بھی پڑھیئے:  برطانوی ائیر لائن بند، تمام پروازیں منسوخ، سینکڑوں افراد بیروزگار