افغان طالبان کے بلوچستان اور کے پی میں متعدد حملے، پاک فوج کی جوابی کارروائی ، 67 کارندے ہلاک
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ افغان طالبان نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں متعدد حملے کیے جب کہ پاک فوج کی جوابی کارروائی میں 27 کارندے ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔
آپریشن غضب للحق کے حوالے سے اپنے تازہ ترین بیان میں کہا کہ بلوچستان میں افغان طالبان نے شمالی بلوچستان میں قلعہ سیف اللہ، نوشکی اور چمن اضلاع میں 16 مقامات پر زمینی حملے کیے جبکہ 25 مقامات پر پاک افواج کے خلاف فائر ریڈ کی کارروائیاں کیں۔
Special Update 1000 hours 3 March: Operation Ghazb lil Haq
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) March 3, 2026
In Balochistan:
▪️Afghan Taliban resorted to physical attack on 16 locations in Northern Balochistan in Qilla Saifullah, Noshki and Chaman Districts while engaging our troops on 25 locations in fire raid.
▪️The…
انہوں نے کہا کہ تمام مقامات پر حملوں کو مؤثر طور پر پسپا کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں افغان طالبان کے 27 کارندے ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے
ان کا کہنا تھا کہ مادرِ وطن کا دفاع کرتے ہوئے ایف سی بلوچستان نارتھ کا ایک جوان شہید جبکہ پانچ جوان زخمی ہوئے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایک مقام پر زمینی حملے کی کوشش کی گئی جبکہ 12 مقامات پر فائر ریڈ کیا گیا، جنہیں بغیر کسی جانی نقصان کے ناکام بنا دیا گیا۔
وزیر اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخوا میں رات بھر جاری کارروائیوں کے دوران افغان طالبان کے 40 کارندے ہلاک ہوئے، فالو اپ آپریشنز تاحال جاری ہیں، آپریشن کی تفصیلی اپڈیٹ کچھ وقت میں جاری کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:بڑھتا تجارتی خسارہ معیشت کیلئے خطرہ ،ملکی برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے:گوہر اعجاز
دوسری جانب افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کیخلاف افواج پاکستان کی زمینی اور فضائی موثرکارروائیاں بھی جاری ہیں، پاک افواج نے افغانستان کے صوبے ننگرہار میں کامیاب فضائی کارروائی کرتے ہوئے خوگانی بیس تباہ کردی۔
سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کو بلا اشتعال جارحیت کے بعد ہر محاذ پر بھرپور پسپائی کا سامنا ہے، آپریشن غضب للحق تاحال جاری ہے اور اپنے اہداف حاصل ہونے تک جاری رہے گا۔