حکومت تحریک انصاف کو سانحہ 9 مئی دوہرانے سے روکنا چاہتی ہے؛شمائلہ رانا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز )پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما شمائلہ رانا نے کہا ہےکہ حکومت تحریک انصاف کو اشتعال دلانا نہیں چاہ رہی صرف سانحہ 9 مئی دوہرانے سے روکنا چاہتی ہے۔
24نیوز کے پروگرام’’ گونج مسعود رضا کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے شمائلہ رانا نے کہا کہ کے پی میں دہشت گردی بڑھے گی اور امن و امان کا مسئلہ ہوگا تو گورنر راج لگ سکتا ہے کیونکہ تحریک انصاف چاہتی ہے کے احتجاج کرے اور اس کے خلاف ایکشن ہو جس میں خون بہے اور تحریک انصاف کے لوگ ہمدردی حاصل کریں لیکن حکومت ان کو ایسا کوئی موقع نہیں دے گی لیکن اگر تحریک انصاف پنجاب اور وفاق پر دھاوا بولے گی تو حکومت کے پاس آپشن ہے، اس لیے خیبر پختونخوا کی حکومت اور سہیل آفریدی کو چاہیے کے اپنے صوبے پر توجہ دیں کیونکہ وہاں برائے نام حکومت ہے ۔
پروگرام میں شامل پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اظہر صدیق نے کہا کہ عطا تارڑ وزیر اطلاعات ہوت ہوئے جھوٹے الزامات لگا کر ایک وزیر اعلی ٰ کو متنازع کر رہے ہیں ان پر پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی ہونی چاہیے،انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں کوئی آئین اور قانون نہیں ہے،انہوں نے مزید کہا کہ ملاقات کے معاملے کو مذاق بنادیا گیا ہے حکومت جو بڑے بڑے دعوے کر رہی تھی معیشت کے بارے میں گورنراسٹیٹ بینک نے اس کی ساری قلعی کھول دی ہے،عمران خان نے ثابت کر دیا کے وہ واحد لیڈر ہیں جو نا ملک سے باہر گیا نا وہ اسپتالوں میں گیا نا ہی کوئی فائدہ اٹھایا اور وہ اسی لیے جیل میں قید ہے ۔
پروگرام میں شریک پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شاہدہ رحمانی نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو معزول کیا گیا ان کی بیوی اور بیٹی یہاں تک کے پوری پارٹی کو پابند سلاسل کیا گیا اور ملنے کی اجازت تو بہت دور کی بات بلکے جب ان کی پھانسی کا فیصلہ ہوگیا تو ان کی بیوی اور بیٹی کو ایک دن پہلے بتایا گیا وہ باپ اپنی بیٹی کے سر پر ہاتھ بھی نہیں رکھ سکایہاں تک کے ان کی فیملی کو ان کا آخری دیدار بھی نہیں کرنے دیا گیا جب بی بی کی شہادت ہوئی اور پاکستان پیپلزپارٹی حکومت میں آئی تو ہم نے یہ دکھایا کہ اس دور میں کوئی سیاسی قیدی نہیں تھا نا ہی کسی کے خلاف انتقامی کارروائی کی گئی جبکہ عمران خان کی تو اپنی حکومت میں خواہش ہوتی تھی کہ سب کو جیل میں ڈال دو اور اس سے ان کو تسکین ملتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں : گنیز ورلڈ ریکارڈز: محمد شاہ زیب دنیا کے کم عمر ترین پاکستانی یونیورسٹی چانسلر بن گئے