ملک بھر میں کل سے پھر موسلادھار بارشیں،تونسہ میں  سیلاب سے  مزید بستیاں ،فصلیں زیر آب

Aug 03, 2025 | 09:50:AM
ملک بھر میں کل سے پھر موسلادھار بارشیں،تونسہ میں  سیلاب سے  مزید بستیاں ،فصلیں زیر آب
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(  24 نیوز ) محکمہ موسمیات نے  کل سے ملک کے بیشتر علاقوں میں مزید  بارشوں کی پیشگوئی کرد ی ، دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر پانی کی سطح میں اضافہ ہوگیا اور دریا کنارے کچے کی مزید دو بستیاں اور فصلیں زیر آب آگئیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق اس وقت ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں کمزور مون سون ہوائیں داخل ہو رہی ہیں، جن کی شدت چار اگست سے بڑھنے کا امکان ہے، اس کے علاوہ ایک مغربی ہوا کا سلسلہ بھی پانچ اگست تک مضبوط ہونے کی توقع ہے، جو متاثرہ علاقوں میں بارش برسانے والے نطام کو مزید تقویت دے گا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں چار سے سات اگست کے دوران کہیں کہیں بارشیں اور چند مقامات پر موسلا دھار بارش کا امکان ہے، مظفرآباد، راولا کوٹ، وادی نیلم، دیامر، سکردو اور گلگت جیسے اہم مقامات پر شدید بارشیں متوقع ہیں، جن کے باعث خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بنوں :پولیس نے بہادری کی مثال قائم کر دی

خیبر پختونخوا میں بھی مون سون کے نئے سلسلے کے لیے الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، جہاں سوات، مانسہرہ، کوہستان، ایبٹ آباد اور ڈیرہ اسماعیل خان سمیت مختلف اضلاع میں چار سے سات اگست کے دوران تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارشیں متوقع ہیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، لاہور، راول پنڈی، گوجرانوالہ، مری اور سیالکوٹ جیسے شہروں میں شدید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے، جو نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب کا سبب بن سکتی ہیں۔

جنوبی پنجاب کے اضلاع، جیسے ڈیرہ غازی خان اور ملتان میں بھی چھ اگست تک معمولات زندگی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، چھ اگست کو سندھ کے ساحلی علاقوں اور شمال مشرقی و جنوبی بلوچستان کے بعض حصوں خضدار، بارکھان اور ژوب میں ہلکی بارش ہو سکتی ہے۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید بارشیں خیبر پختونخوا، شمال مشرقی پنجاب، آزاد کشمیر اور مری و گلیات جیسے پہاڑی علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی اور فلیش فلڈنگ کا سبب بن سکتی ہیں، لینڈ سلائیڈنگ، سڑکوں کی بندش اور کمزور ڈھانچوں جیسے کچے گھروں اور بل بورڈز کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

 نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹیز ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ پر ہیں۔

 دوسری طرف سیلاب متاثرین کی کشتیوں کے ذریعے نقل مکانی جاری ہے، ضلعی انتظامیہ کی جانب سےعلاقے میں 15 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے لیکن سیلاب متاثرین منتقل نہ ہوئے۔

انتظامیہ کے مطابق کچے کے مکین اپنا گھر اور سامان چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ ادھر حافظ آباد کے بعد مختلف دیہاتوں میں حالیہ بارش کے بعد پانی کی نکاسی نہ ہو سکی جس سے وبائی امراض پھیلنے لگے ہیں۔