پیپلزپارٹی کی علی امین گنڈا پور کی کالاباغ ڈیم کی تجویز کی شدید مذمت 

Sep 02, 2025 | 21:15:PM
پیپلزپارٹی کی علی امین گنڈا پور کی کالاباغ ڈیم کی تجویز کی شدید مذمت 
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)پیپلزپارٹی کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی کالاباغ ڈیم بنانے کی تجویز کی سخت مخالفت کی ہے, پیپلزپارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے کہا کہ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ صوبے کالا باغ ڈیم کی مخالفت کر چکے ہیں، جس خیبرپختونخواہ صوبے کی اسمبلی کالاباغ ڈیم کے خلاف قرارداد منظور کر چکی ہے، اس صوبے کا وزیراعلیٰ کالاباغ ڈیم کی حمایت میں بات کر کے ایوان کی توہین کر رہے ہیں۔

نثار کھوڑو نے کہا کہ علی امین گنڈا پور کو سیاست سیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ انہیں کالاباغ کی حمایت سے قبل سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہئے, انھوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کو کالاباغ ڈیم کے خلاف قرارداد کی منظوری کا پتہ ہی نہیں، شاہد وہ اس وقت وہ سیاست میں بھی نہیں تھے، پی ٹی آئی اور عمران خان کالاباغ ڈیم اور صوبوں کے حمایتی ہیں۔

نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ سندھ میں جو عمران خان کے حمایتی ہیں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ عمران خان چاہتا ہے کہ کالا باغ ڈیم بنے، سندھ والے دریائے سندھ پر اور پانی پر جان دیتے ہیں۔

پیپلزپارٹی سندھ کے صدر کا کہنا تھا کہ سندھ کو کسی صورت کالاباغ ڈیم قبول نہیں، کالا باغ ڈیم کی بات کرنے والوں سے یہ پوچھا جائے کہ بھاشا ڈیم پر قرضہ لیا وہ بھاشا ڈیم ابھی تک کیوں نہیں بنا، پی ٹی آئی نے اپنے تین سالہ دور میں دیا میر، مھمند ڈیم کیوں نہیں مکمل کئے گئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم سندھ کو بنجر بنانے اور ہمیں بھوکا مارنے کا منصوبہ ہے، کالاباغ ڈیم کی حمایت کرنے سے اب پی ٹی آئی کا اصل چہرہ سامنے آ گیا ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کے بیان پر ترجمان سندھ حکومت سکھدیو ہیمنانی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کالاباغ ڈیم پر علی امین گنڈا پور کا مؤقف خیبر پختونخواہ کے عوام کے خدشات کے بھی منافی ہے۔

انھوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کی ذمہ داری ہے کہ اپنے عوام کی ترجمانی کریں نہ کہ ان کے برعکس، سندھ کی عوام کالا باغ ڈیم کے سخت خلاف ہے اور پاکستان پیپلزپارٹی کی اس متنازع منصوبے کے خلاف تاریخی جدوجہد ہے۔

سکھدیو ہیمنانی نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کو چاہئے کہ ماضی میں دفن کیے گئے منصوبوں کے بجائے اِس وقت بدترین سیلاب سے متاثر اپنے صوبے کے عوام کو ریلیف پہنچانے پر توجہ دیں۔

ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ صرف سندھ مخالفت کرتا ہے؛ خیبر پختونخوا اور بلوچستان نے بھی کالا باغ ڈیم کو رد کیا تھا، خیبر پختونخوا کو خدشہ رہا ہے کہ کالا باغ ڈیم سے نوشہرہ، چارسدہ اور دیگر آبادیاں زیرِ آب آ جائیں گی۔

انھوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم وفاقی اکائیوں کے درمیان ہم آہنگی کی بجائے نفرت اور تقسیم پیدا کرتا ہے، سندھ کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے, صوبے کے لیے زرعی، ماحولیاتی اور معاشی تباہی لائے گا، دریائے سندھ کے قدرتی بہاؤ کو روکنے سے سمندر میں پانی کی شدید کمی اور ڈیلٹا کی بربادی ہوگی۔

سکھدیو ہیمنانی نے کہا کہ سندھ حکومت کا دوٹوک مؤقف ہے کہ متنازعہ منصوبوں کے بجائے متفقہ حل تلاش کیے جائیں، فلڈ کنٹرول کے لیے ماحولیاتی مینجمنٹ ناگزیر ہے، جنگلات کی کٹائی اور پہاڑوں میں مائننگ کو روکنا سیلابی خطرات کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔

ترجمان سندھ حکومت کے مطابق خیبرپختونخواہ میں برسوں سے جاری ٹمبر مافیہ کی جانب سے جنگلات کی کٹائی کو روکا جانا چاہئے، کالا باغ ڈیم ایک “مردہ منصوبہ” ہے، اسے دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش قومی یکجہتی اور قومی مفاد کے خلاف ہے۔

یہ بھی پڑھیں :میں نے پارٹی سے کہا تھا کہ مولانا ہمارے ساتھ نہیں چلیں گے: علی امین گنڈاپور