این ڈی ایم اے کی سیلاب ریلوں پر تفصیلی رپورٹ جاری

Sep 02, 2025 | 20:49:PM
این ڈی ایم اے کی سیلاب ریلوں پر تفصیلی رپورٹ جاری
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(روزینہ علی)این ڈی ایم اے کے این ای او سی نے دریاؤں میں سیلابی ریلوں اور بہاؤ کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ جار ی کر دی، یکم ستمبر کودریائے چناب میں تریموں سے 5 لاکھ 50 ہزار کیوسک کا ریلا گزر چکا ہے جو اب پنجند کی طرف رواں ہے، چناب کے 8 لاکھ 85 ہزار کیوسک کا بہاؤ2 مقامات پر بند ٹورنے کے بعد واضح کمی کے ساتھ 5 لاکھ 50 ہزار کیوسک تک محدود ہے  جو باآسانی ہیڈ تریموں گزر چکا ہے۔

پنجند ہیڈ ورکس سے صرف 6 لاکھ 50 ہزار کیوسک کے گزرنے کی گنجائش موجود ہے اور کسی جگہ بند توڑنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی،ممکنہ طور پر یہ سیلابی ریلہ 3 ستمبر کو پنجند کے مقام پر 5 لاکھ 70 ہزار سے 6 لاکھ کیوسک کے بہاؤ کے ساتھ اکٹھے ہوں گے۔

5 ستمبر کی صبح اس دریائی ریلے میں دریائے ستلج سے 80 ہزار تا1 لاکھ کیوسک کا ریلا پنجند کے مقام پر شامل ہوگا، تینوں دریاؤں سے ریلوں کی آمد کے بعد پنجند کے مقام پر مجموعی طور پر 6 لاکھ 50 ہزار سے 7 لاکھ کیوسک تک کا بہاؤ متوقع ہے،پنجند سے یہ ریلہ 6 ستمبر کی دوپہر تک گڈو بیراج پہنچنے کا امکان ہے، جہاں مجموعی بہاؤ 4 لاکھ 50 ہزار سے 5 لاکھ کیوسک تک متوقع ہے۔

کوٹ مٹھن کے مقام پر اس سیلابی ریلے میں دریائے سندھ کا آبی بہاو شامل ہو جائے گا، منصوبہ بندی کے بعد دریائے سندھ کے بہاؤ کنٹرول کرتے ہوئے تونسہ کے مقام پر  تاکہ اس ریلے کو 2 لاکھ کیوسک تک محدود کیا جا سکے۔

منصوبہ بندی کے تحت یہ مجموعی بڑا سیلابی گڈو ہیڈ ورکس پر  6 لاکھ 50 ہزار تا 7 لاکھ کیوسک تک کا پہنچ سکتا ہے، یہ سیلابی ریلہ سکھر اور کوٹری بیراج سے گزرتے ہوئے 12 تا 13 ستمبر کو سمندر کیطرف  راوں ہو جائے گا۔

وزیراعظم کی ہدایت پر این ڈی ایم اے تمام ریسکیو و ریلیف سرگرمیوں کی نگرانی کر رہا ہے، نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر 24 گھنٹے کے لئے مکمل فعال ہے، این ڈی ایم اے سول و عسکری اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے۔

این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کیا ہے کہ دریاؤں کے کناروں اور واٹر ویز پر رہائش پذیر افراد فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں، ممکنہ طور پر زیر آب آنے کے خطرے سے دوچار علاقوں کے مکین انخلاء کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔

انخلا ء کے بعد عارضی کمپس سے اپنے علاقوں میں واپسی کے لیے اداروں کے ہدایات پر عمل یقینی بنائیں، مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر فوری عمل کریں اور ہنگامی حالات میں امدادی ٹیموں سے رابطہ کریں، سیلاب زدہ علاقوں میں غیر ضروری سفر سے مکمل گریز کریں، ہنگامی کٹ (پانی، خوراک، ادویات) تیار رکھیں اور اہم دستاویزات محفوظ کریں۔

یہ بھی پڑھیں :میں نے پارٹی سے کہا تھا کہ مولانا ہمارے ساتھ نہیں چلیں گے: علی امین گنڈاپور