وزیر اعلی خیبر پختونخوا سےجرمن سفیر کی ملاقات،عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پرگفتگو 

Sep 02, 2025 | 20:54:PM
وزیر اعلی خیبر پختونخوا سےجرمن سفیر کی ملاقات،عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پرگفتگو 
کیپشن: وزیر اعلی خیبر پختونخوا سےپاکستان میں تعینات جرمن سفیر کی ملاقات،عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پرگفتگو 
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ملک رحمان)  وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے پاکستان میں تعینات جرمن سفیر اینا لیپل نے  ملاقات  کی ،ملاقات میں  باہمی دلچسپی کے امور اور صوبے میں جرمن اداروں کے تعاون سے جاری عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا،اس دوران  مختلف سماجی شعبوں میں اشتراک کار اور تعاون کے دائرے کو وسیع کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا.

اس موقع پر ایم این اے فیصل امین گنڈاپور،  محکمہ جنگلات کے اعلی حکام اور جرمن سفارتخانے کے دیگر حکام بھی ملاقات میں موجود تھے۔ 

علی امین گنڈاپور نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت سماجی شعبوں میں جرمن اداروں کے تعاون اور اشتراک کار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے،ہم پوٹینشل شعبوں میں جرمن حکومت کے مزید تعاون کے خواہاں ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنا آمدن بڑھانے کے لئے پوٹینشل سیکٹرز میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں،ہم بین الاقوامی اداروں سے بھی انہی شعبوں میں مزید تعاون کی توقع رکھتے ہیں۔

علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ صوبے کو امن و امان اور کلائمیٹ چینج کے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، صوبائی حکومت کلائمیٹ چینج کے اثرات سے نمٹنے کے لئے متعدد منصوبوں پر کام کررہی ہے،سیلاب کے نقصانات کو کم کرنے کے لئے چھوٹے ڈیموں اور واٹر شیڈز کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔

 وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت کو اس شعبے میں بین الاقوامی تعاون درکار ہے،جنگلات کے تحفظ اور ان کے سائینٹفک منیجمنٹ کے لئے جرمن اداروں کے تکنیکی معاونت کی ضرورت ہے، وزیر اعلی 

انہوں نے کہا جنگلات کے تحفظ اور فروغ کے لئے فارسٹ انسٹیٹیوٹ کو جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور عملے کو جدید تربیت فراہم کرنے کی ضرورت ہے، جنگلات کے تحفظ کے لئے پہاڑی علاقوں میں ایندھن کے متبادل ذرائع کی فراہمی ضروری ہے،اس شعبے میں صوبائی حکومت اور جرمن اداروں کے درمیان اشتراک کار کے وسیع مواقع موجود ہیں ،جنگلات کی غیر قانونی کٹائی اور ٹمبرز کی غیر قانونی نقل و حمل کو روکنے کے لئے جی پی ایس ٹیکنالوجی اور کیٹیلاگنگ کا استعمال کر رہے ہیں،صوبائی حکومت اس مقصد کے لئے فارسٹ فورس کے قیام پر بھی کام کر رہی ہے۔

 علی امین گنڈاپور  نے مزیدکہا کہ صوبائی حکومت کے اقدامات کے نتیجے میں صوبے میں جنگلی حیات کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے،اس سلسلے میں فارسٹ منیجمنٹ سسٹم کا بھی اجراء کردیا گیا ہے ،موجود صوبائی حکومت سرکاری امور میں شفافیت اور عوامی خدمات کی بہتر فراہمی کے لئے ای گورننس کے شعبے میں اقدامات اٹھا رہی ہے،اب تک صوبائی حکومت نے 37 مخلتف عوامی خدمات کو ڈیجیٹائز کردیا ہے، اگلے چھ مہینوں میں 76 خدمات کو ڈیجیٹائز کیا جائے گا،صوبائی کابینہ اجلاسوں اور سمریوں کو پیپر لیس کردیا گیا ہے۔ 

 ملاقات کے دوران جرمن سفیر  اینا لیپل کا کہنا تھا کہ جرمن حکومت خیبر پختونخوا میں مختلف شعبوں میں عوامی فلاح و بہبود کے کام کر ہے، ان شعبوں میں ماحولیات، صحت، سماجی تحفظ،  قابل تجدید توانائی، فنی تربیت، معاشی ترقی، گورننس اور دیگر شعبے شامل ہیں،کلائمیٹ چینج کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے صوبائی حکومت کا بلین ٹری پراجیکٹ ایک بہترین منصوبہ ہے،ماحولیات اور جنگلات کے تحفظ کے شعبے میں جرمن اور صوبائی حکومت اشتراک کار کو مزید وسعت دے سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: تباہ کن سیلاب اور مون سون بارشیں،یورپی یونین کی 350 ملین روپے کی ہنگامی امداد