بھارت کی چین تک وقتی رسائی پاک چائنا تعلقات کو متاثر کر سکتی ہے: سردار مسعود خان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز) آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور امریکہ و چین میں پاکستان کے سابق سفیر سردار مسعود خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو چوکنا اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ نئی دہلی اور بیجنگ کے درمیان وقتی قربت کا مقصد پاکستان اور چین کے دیرینہ اور اعتماد و تعاون پر مبنی تعلقات میں دراڑ ڈالنا ہو سکتا ہے۔ ہمیں چین کے ساتھ اپنے تعلقات پر مکمل اعتماد ہے، تاہم بھارت کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہ ماسکو، واشنگٹن، برسلز یا بیجنگ، ہر جگہ پاکستان کے خلاف محاذ کھولنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم کے حالیہ اجلاس کے تناظر میں مختلف ٹی وی چینلز کو دیے گئے انٹرویوز میں سردار مسعود خان نے کہا کہ ماضی میں جب پاکستان اور چین نے اپنی مثالی دوستی اور شراکت داری کو مزید فروغ دیا تو اس سے بھارت میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ ان کے مطابق امریکہ میں خاطر خواہ پذیرائی نہ ملنے کے بعد بھارت اب بیجنگ کا رخ کر رہا ہے اور اگر اسے وقتی طور پر چین تک رسائی مل بھی جائے تو وہ لازمی طور پر پاکستان اور چین کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا۔سردار مسعود خان نے اپنے سفارتی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اور چین کے درمیان کشیدگی کے باوجود بھارتی حکام اکثر بینک آف چائنا اور دیگر مالیاتی اداروں تک رسائی حاصل کر کے انہیں پاکستان کے ترقیاتی منصوبوں میں تعاون نہ کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ان کے بقول نئی دہلی کی پالیسی یہ رہی ہے کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو متنازعہ قرار دے کر چین کو ان علاقوں ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری سے روکا جائے۔ اسی طرح بھارت کی طرف سے ایشیائی ترقیاتی بینک اور آئی ایم ایف کو بھی مختلف اوقات میں پاکستان سے مالیاتی تعاون نہ کرنے پر قائل کرنے کی کوششیں کی گئیں۔انہوں نے وزیراعظم پاکستان کی شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں تقریر کو نہایت اہم اور بروقت قرار دیا اور کہا کہ وزیر اعظم نے اس خطاب میں تین بنیادی نکات پر توجہ مبذول کرائی، جن میں سندھ طاس معاہدے کی بھارت کی طرف سے غیر قانونی معطلی، پاکستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور افغانستان کے حوالے سے چین کے تعمیری کردار کی ستائش شامل تھی۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ ان نکات پر عالمی برادری کی توجہ دلانا پاکستان کے قومی مفاد میں ایک موثر اقدام تھا۔دہشت گردی کے حوالے سے براہِ راست بھارت کا نام نہ لینے پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد اقوام متحدہ، واشنگٹن، ماسکو اور بیجنگ کو فراہم کر چکا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم چونکہ اتفاق رائے کے اصول پر عمل کرتی ہے، اس لیے وزیراعظم نے سفارتی آداب کو مدنظر رکھتے ہوئے بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر دہشت گرد حملے اور خیبر پختونخوا سمیت دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات کا ذکر کیا۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ اجلاس میں شریک تمام عالمی رہنما بخوبی آگاہ ہیں کہ اس منظم نیٹ ورک کے پیچھے کون سا ملک سرگرم ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات نہ صرف دونوں ممالک کے لیے بلکہ پورے خطے کے امن، ترقی اور استحکام کے ضامن ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنے اندر اتحاد اور یکجہتی پیدا کرتے ہوئے چین کے ساتھ اعتماد اور شراکت داری کو مزید مضبوط بنانا ہوگا تاکہ بھارت کی تمام ریشہ دوانیوں کو ناکام بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت جس طریقے پانی کو پاکستان کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے وسائل سے پانی کے چھوٹے چھوٹے ذخائر تعمیر کرکے اس قدرتی وسیلے کو آبپاشی اور توانائی پیدا کرنے کے لئے استعمال کریں۔
یہ بھی پڑھیں:رکن اسمبلی پر ریپ کا الزام،پولیس گرفتار کرنے پہنچی تو فائرنگ کرکے فرار