آؤجاپان چلیں۔۔ (چوتھی قسط )
حافظ شہباز علی hafee23@gmail.com
Stay tuned with 24 News HD Android App
ورلڈ اتھلیٹکس چیمپئن شپ کے چوتھے روز یعنی 16 ستمبر کے روز مختلف ایونٹس کے فائنل شیڈول تھے ، اس روز دن کے وقت میں کوئی مقابلہ شیڈول نہ تھا تاہم مختلف اتھلیٹس کے ٹریننگ سیشنز ضرور رکھے گئے تھے،، تمام ایونٹس شام کے اوقات میں ہونے کے باعث اس روز مجھے ٹوکیو میں گھومنے پھرنے کا موقع مل گیا۔صبح تقریبا دس بجے اشفاق الرحمن ہاشمی صاحب نے مجھے میڈورینو اسٹیشن پر ڈراپ کیا اس روز مجھے اوکاچی ماچی کی بجائے اکھی عبارہ اسٹیشن اور پھر یہاں سے یوٹوسایا اسٹیشن جاناتھا۔ میڈو رینو اسٹیشن کی جانب سفر کرتے ہوئے مجھے ٹیوٹا ، ہونڈا اور سوزوکی گاڑیوں کی فیکٹریاں اور ان کی آؤٹ لیٹس دیکھنے کا موقع ملا۔ آؤٹ لیٹس پر ان گاڑیوں کے جدید ماڈل موجود تھے۔ کچھ بات چیت کے بعد میرے علم میں آیا کہ در حقیقت کاواساکی، ہونڈا، ٹیوٹا اور سوزوکی گاڑیوں کے برانڈز تو ہیں ہی لیکن یہ جاپان کی برادریاں یا قبیلے ہیں اور انہی کے نام پر وہاں پورے پورے علاقے ہیں۔ یہاں کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ تمام بڑی بڑی فیکٹریاں اور انڈسٹریز ٹوکیو شہر سے تھوڑا ہٹ کر دیہاتی علاقوں یا پھر قصبوں میں قائم ہیں ان فیکٹریوں میں ہر لمحہ پروڈکشن کا عمل جاری رہتا ہے مگر مجال ہے کہ آپ کو کہیں کسی فیکٹری کی چمنی سے دھواں اٹھتا دکھائی دے یا پھر کسی فیکٹری یا کارخانہ سے پانی یا زہریلا مادہ نکل کر ارد گرد کی ابادیوں میں جاتا دکھائی دے یہاں تمام اقدامات حفظان صحت کے اصولوں کو مد نظر رکھ کر کئے جاتے ہیں۔یہاں ایک اور قابل ذکر بات جو اپنی قارئین تک پہنچانا لازمی ہے کہ جاپانی اشیا میں پائیداری ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ ہرشعںے میں پرفیکشن کو اہمیت دیتے ہیں کسی بھی صورت یہ لوگ کسی قسم کا جوگاڑ نہیں لگاتے بلکہ جب تک پرفیکشن نہ ہو اس وقت تک یہ لوگ اس چیز کو مارکیٹ میں نہیں لاتے۔ بہر کیف سوزوکی ، ہونڈا اور ٹیوٹا کے بڑے بڑے شو رومز اور وہاں کھڑی جدید گاڑیاں دیکھ کر اندازہ ہوا کہ آٹو موبائل انڈسٹری میں جاپان کا کوئی ثانی نہیں ہے ۔ پاکستان میں حال ہی میں اپنی پروڈکشن بند کرنے کا اعلان کرنے والی یاماہا فیکٹری کے حوالے سے بھی جاننے کا موقع ملا اور یہ جان کر حیرت ہوئی کہ یاماہا جاپان میں اسی طرح اپنی پروڈکشن جاری رکھے ہوئے ۔ ہمارے ہاں 1980 کی دہائی میں پیدا ہوکر 90 کی دہانی میں جوان ہونے والی پوری نسل کی یاماہا کے ساتھ ایک وابستگی ہے بالکل اسی طرح 90 کی دہائی میں کاوا ساکی اور ٹریل کا بھی ایک دور تھا ۔

اشفاق الرحمن صاحب نے مجھے میڈورینو اسٹیشن پر ڈراپ کیا اور ساتھ ہی یوٹوسایا جانے کے بارے میں گائیڈ کیا۔ میڈورینو اسٹیشن سے جب میں آکھی عبارہ پہنچا تو مجھے یوٹوسایا کے لیے ٹرین لینا تھی میں نے ایک لگ بھگ 60سال عمر کے ایک جاپانی شہری سے راستہ پوجھا تو انہوں نے مجھے کہا کہ میرے ساتھ آئیں ۔جاپانی شہری نے مجھ سے دریافت کیا کہ آپ کس ملک سے ہیں میں نے جب ان کو بتایا کہ میں پاکستانی ہوں تو وہ بہت خوش ہوئے میرے لیے حیرانگی کی بات یہ تھی کہ مجھے اپنے اگلے پلیٹ فارم پہنچنے کے لیے پانچ فلورز اوپر جانا تھا وہ جاپانی شہری میرے ساتھ ہی تھے پانچ فلورز اوپر جاکر میں نے اگلے اسٹیشن کے لیے ٹکٹ خریدا اور وہ شہری پلیٹ فارم کے اندر لے جاکر ٹرین کی جگہ کھڑا بتا کر سامنے اسکرین پر ٹرین کے سٹاپ کی لسٹ دکھاتے ہوئے مجھے سمجھایا کہ۔مجھے ساتویں سٹاپ پر اترنا ہے۔ میرے لیے یہ حیران کن بات تھی کہ اس جاپانی باشندے نے واپسی اسی پلیٹ فارم پر جانا تھا جہاں ہم اترے تھے اور وہ مجھے راستہ سمجھانے کے لیے دو کلو میٹر پیدل چل کر میرے ساتھ آئے تھے ۔ چند منٹ بعد میری ٹرین آگئے اور میں یوٹوسایا اسٹیشن کی جانب گامزن ہو گیا تاہم وہاں پہنچنے تک میں اس جاپانی باشندے کے اس حسن سلوک کے بارے میں سوچتا رہا ہے ۔

جب میں یوٹوسایا اسٹیشن سے باہر آیا تو میں ٹوکیو شہر کے عین وسط میں موجود تھا یہاں کچھ گھومنے پھرنے کے بعد میری اگلی منزل ٹوکیو کا نیشنل اسٹیڈیم تھا ۔ جب میں اسٹیڈیم پہنچا تو مختلف اتھلیٹس اپنی ٹریننگ میں مصروف تھے بہر حال سٹار پاکستانی اتھلیٹ ارشد ندیم اپنی ٹریننگ کرکے ہوٹل جاچکے تھے ۔ فون پر ارشد ندیم نے بتایا کہ انہوں آج بھی بھرپور ٹریننگ کی ہے اور کوالیفائنگ راؤنڈ میں عمدہ کارکردگی دکھانے کے لیے پرعزم ہیں ۔
اس روز 800میٹر کی ہیٹس،ویمں ٹرپل جمپ کوالیفکیشن ،چار سو میٹر ریس میں مینز اور ویمنز سیمی فائنل ،110 میٹر ہرڈلز مینز سیمی فائنل کے علاوہ 1500 میٹرویمنز ، 110 میٹر ہرڈلز ویمن فائنل ،ہیمر تھرو فائنل شیڈول تھے،،کینیا کی فیتھ کیپیگون Faith Kipyegon نے 3منٹ 15 اعشاریہ52 سیکنڈ میں مقررہ فاصلہ طے کر کے اپنے اعزاز کا کامیابی کے ساتھ دفاع کیا،،، کامیابی کے بعد کیپیگون جب میڈیا زون میں آئیں تو ان کی فٹنس دیکھ کر اندازہ ہوا کہ رننگ ایونٹس کے لیے سپر فٹنس کسے کہتے ہیں کیپیگون کا کہنا تھا کہ ان کو اپنے اعزاز کا دفاع کرنے کی خوشی ہے 1500 میٹر کی ورلڈ ریکارڈ ہولڈر کیپگون نے کہا کہ انہون نے اپنے اعزاز کے کامیاب دفاع کے لیے اپنے کوچز اور سپورٹ ٹیم کے بنائے ہو ئے پلان پر عمل کرکے یہ کامیابی سمیٹی ہے،، کینیا ہی کی ڈورکس ایوول Dorcs EWOL نے 1500 میٹر میں دوسری اور آسٹریلیا کی جیسیکا ہال Jessica HULL نے تیسری پوزیشن حاصل کی ،،،
ہیمر تھرو کے فائنل میں کینیڈا کے ایتھن کیٹزبرگ Ethan KATZBERG نے 84.70 میٹر تھرو کرکے کامیابی سمیٹی، جرمنی کے مارلن ہیومل Merlin HUMMEL،ہونڈرس کے بیسن ہالز نے تیسری پوزیشن اپنے نام کی ،،110 میٹر ہرڈلز میں امریکا کے کورڈل ٹیننچ نے فتح سمیٹی جبکہ جمیکا کے اورونالڈ بینٹ دوسرے اور جمیکا ہی کے ٹیلر میسن نے تیسری پوزیشن اپنے نام کی ۔ہائی جمپ میں نیوزی لینڈ کے ہمیش کیر Hamish KEER نے کامیابی سمیٹی،،،
ہائی جمپ کے فائنل کے اختتام پر ہم اسٹیڈیم سے نکلے اب مجھے واپسی کی زیادہ جلدی اس لیے تھی کہ ہمیں جاپان میں مقیم پاکستانی شہری اور ہمارے ہر دل عزیز دوست ڈاکٹر اسد عباس شاہ کے قریبی دوست عابد ڈار صاحب نے ہمیں کھانے کی دعوت دے رکھی تھی میں واپس ایباراکی جوسو پہنچا تو اشفاق الرحمن صاحب کے ساتھ ہماری اگلی منزل پاکستانی کھانوں کا مرکز نیو پاکستان ریسٹورینٹ تھا ۔
(جاری ہے)