صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملہ، وزیراعظم شہباز شریف سمیت عالمی رہنماؤں کی مذمت
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)اسرائیل کی جانب سے غزہ کے لیے روانہ گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملے کے بعد عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی ہے۔
???? BREAKING: The Global Sumud Flotilla is being intercepted by the Israeli navy.
— Hala Jaber (@HalaJaber) October 1, 2025
So close to Gaza, yet so far.
The criminal entity will not allow a single vessel to reach the starving. Even mercy is blockaded.
A state so terrified of compassion it blockades bread & medicine.… pic.twitter.com/bMduEvJe8j
اس حملے میں اسرائیلی بحریہ نے 13 کشتیوں کو روک کر ان پر سوار کارکنوں کو حراست میں لے لیا، جن میں انسانی ہمدردی کے کارکن اور عالمی شخصیات شامل تھیں۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اس اقدام کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
پاکستان ’’صمود غزہ فلوٹیلا‘‘ پر اسرائیلی افواج کے بزدلانہ حملے کی شدید ترین مذمت کرتا ہے۔ اس فلوٹیلا میں 44 ممالک کے 450 سے زائد امدادی کارکن سوار تھے، جنہیں اسرائیلی افواج نے غیرقانونی طور پر حراست میں لے لیا ہے۔ ان بے لوث کارکنان کا واحد ’’جرم‘‘ یہ تھا کہ وہ بے کس اور مظلوم…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) October 2, 2025
انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ فلوٹیلا کو بحفاظت غزہ پہنچنے دیا جائے اور تمام گرفتار کارکن فوری رہا کیے جائیں۔
ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے بھی اسرائیل کے اس اقدام کو غیر قانونی اور غیر انسانی قرار دیا اور کہا کہ ان کا ملک ہر قانونی اور جائز طریقے سے اسرائیل کو جوابدہ بنانے کے اقدامات کرے گا، خاص طور پر اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے۔
Malaysia akan mengambil segala langkah yang sah dan berasaskan undang-undang bagi menuntut pertanggungjawaban rejim zionis, khususnya apabila warganegara kita terlibat. Keselamatan rakyat Malaysia menjadi keutamaan serta kita tidak akan sama sekali bungkam tatkala hak dan maruah… pic.twitter.com/brZ9c43m4G
— Anwar Ibrahim (@anwaribrahim) October 2, 2025
اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسیسکا البانیزے اور کولمبیا کے صدر گستاوا پیٹرو نے بھی فلوٹیلا پر حملے کی مذمت کی اور زور دیا کہ انسانی ہمدردی کی امداد کو پہنچنے سے نہیں روکا جانا چاہیے۔
یاد رہے کہ فلوٹیلا کے ذریعے سینکڑوں کارکن اور امدادی سامان غزہ کی طرف روانہ ہوئے تھے تاکہ اسرائیل کی مسلط کردہ بحری ناکہ بندی کو عبور کر کے فلسطینی عوام تک انسانی ہمدردی کی امداد پہنچائی جا سکے۔
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ یہ مشن اس کی قانونی ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش ہے، لیکن بین الاقوامی ماہرین کے مطابق امدادی کشتیوں کو روکا جانا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
فلوٹیلا کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ عالمی دباؤ اور اسرائیلی کارروائی کے باوجود اپنے مشن میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔