’’آپریشن مکڑی کا جالا‘‘ ایک دوسرے کے خون کے پیاسےممالک کا کتنا نقصان ہوا؟ جانئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ روس کے متعدد فضائی اڈوں پر کیے گئے ڈرون حملوں میں 40 سے زائد روسی بمبار طیاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔یوکرینی خفیہ ایجنسی ’ایس بی یو‘ نےاس آپریشن کو سپائڈر ویب (مکڑی کا جالا) کا نام دیا تھا۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق روس، یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد سے اس حالیہ حملے کو ’خطرناک‘ اور ’شدید‘ قرار دیا جا رہا ہے۔یوکرین کی خفیہ ایجنسی ’ایس بی یو‘ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس کارروائی کو سپائڈر ویب (مکڑی کا جالا) کا نام دیا گیا تھا اور اِس کی نگرانی خود یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کی ہے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے ڈیڑھ سال کی منصوبہ بندی کے بعد کیے گئے ہیں۔اس حملے کی ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈرون حملوں کے بعد آگ کے شعلوں نے روسی جنگی طیاروں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ان ڈرونز کو لکڑی کے موبائل کیبنز میں چھپایا گیا تھا جن کی چھتیں آٹومیٹک ہوتی ہیں اور انھیں فاصلے سے کھولا جا سکتا ہے۔ یہ کیبنز اُن ٹرکوں پر رکھے گئے تھے جنھیں روسی فضائی اڈوں کے قریب پہنچایا گیا اور پھر مناسب وقت پر حملہ کیا گیا۔ذرائع کے مطابق یہ پوری کارروائی نقل و حمل کے لحاظ سے ’انتہائی پیچیدہ‘ تھی۔وکرینی صدر ولادیمر زیلنسکی نے حملے کے بارے میں مزید تفصیلات شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے میں 117 ڈرون استعمال کیے گئے۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ ہر ڈرون کا اپنا پائلٹ تھا۔ٹیلی گرام پر ان کی پوسٹ کے انگریزی ترجمے میں لکھا گیا ہے کہ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے آپریشن مراکز ان کے ایک علاقے میں روس کے ایف ایس بی (روس کی سکیورٹی سروس) کے بالکل قریب واقع تھا۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات 472 ڈرونز اور سات بیلسٹک و کروز میزائلوں نے یوکرین پر حملہ کیا۔یہ روس کی جانب سے اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ معلوم ہوتا ہے۔ یوکرین نے کہا کہ 385 فضائی اہداف کو ناکارہ بنایا گیا۔
روسی فوج نے اتوار کو یوکرین کے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے انھیں ’دہشت گردانہ کارروائی‘ قرار دیا ہے۔روس کی جانب سے تاحال یہ تو نہیں بتایا گیا کہ اسے کتنا نقصان ہوا لیکن روسی وزارت دفاع نے ایک بیان میں یہ کہا ہے کہ مورمانسک اور ارکتسک کے علاقوں میں ’کئی طیارے‘ جلے گئے تاہم آگ بجھا دی گئی اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ روسی وزارت دفاع نے اتوار کو رات گئے سوشل میڈیا پر تصدیق کی کہ ملک کے5 علاقوں کے فوجی ہوائی اڈے نشانہ بنے۔وزارت نے دعویٰ کیا کہ ایوانوو، ریازان اور امور کے علاقوں میں تمام حملے ناکام بنا دیے گئے۔ یاد رہے کہ ایس بی یو نے امور کے علاقے کا ذکر نہیں کیا تھا۔روسی وزارت دفاع نے مزید بتایا کہ مورمانسک اور ارکتسک کے علاقوں میں ’کئی طیارے‘ جل گئے تاہم تمام آگ بجھا دی گئی اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’دہشت گرد حملوں میں ملوث کچھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ آگ بجھا دی گئی ہے۔ فوجی اہلکاروں یا عام شہریوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
دوسری جانب یوکرینی حکام نے بھی اپنی سرزمین پر بڑے پیمانے پر رات کے وقت روسی ڈرون اور میزائل حملوں کی تصدیق کی ہے۔یہ حملے ایک ایسے وقت پر کیے گئے ہیں جب روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں جاری تھیں اور دونوں ممالک کے نمائندے ایک بار پھر ترکی کے شہر استنبول میں مذاکرات کے دوسرے دور میں ملنے جا رہے ہیں۔تاہم جنگ بندی کی امیدیں کم ہی دکھائی دے رہی ہیں کیونکہ دونوں فریق جنگ کے خاتمے کے طریقہ کار پر سخت اختلافات رکھتے ہیں۔
یاد رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے فروری 2022 میں یوکرین پر مکمل حملے کا آغاز کیا تھا۔ اِس وقت روس تقریباً 20 فیصد یوکرینی سرزمین پر قابض ہے، جس میں 2014 میں ضم کیا گیا جنوبی کریمیہ کا علاقہ بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:یوکرین کا سائبیریا میں روسی ائیر بیس پر بڑا حملہ، 40 سے زائد طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ