ڈونلڈ ٹرمپ کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست مسترد
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) کراچی کی ایک عدالت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کیس خارج کر دیا ہے۔کراچی ویسٹ کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے جمشید علی خواجہ کی پٹیشن پر تحریری حکم نامہ بدھ کو جاری کیا۔
جمشید علی خواجہ نے انٹرنیشنل لائرز فورم (آئی ایل ایف) کے نمائندے کے طور پر اپنی درخواست امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی استدعا کی تھی۔
درخواست گزار نے موقف اپنایا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 21 اور 22 جولائی کو جدید ترین جہازوں کے ذریعے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تھا جس سے دنیا بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی اور اس سے لاکھوں مسلمانوں کو نقصان اٹھانا پڑا۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ایسا مقدمہ درج کرنا ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں آتا اور اگر امریکی صدر کے خلاف اس قسم کا کریمنل کیس درج کیا جائے گا تو اس کے پاکستان اور امریکہ کے سفارتی تعلقات پر برے اثرات پڑ سکتے ہیں۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست کا تحریری فیصلہ جاری کردیا گیا۔
تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ درخواست میرٹ پر نہ ہونے کی بنیاد پر مسترد کی جاتی ہے، درخواست میں ایران پر امریکی حملے کے خلاف مقدمہ کے اندراج کے لئے استدعا کی،سرکاری وکیل طاہر خان کو عدالتی معاونت کے لئے بلایا گیا تھا، سینئر وکیل جعفر عباس جعفری نے تفصیلی طور پر اپنے دلائل دیئے۔
حکمنامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران پر حملہ امریکی صدر کے حکم پر کئے گئے تھے، امریکی سپریم کورٹ کے 2024 کے فیصلے کے مطابق صدر مملکت کو استثنیٰ حاصل ہے۔
وکیل درخواست گزار نے زور دیا کہ پاکستان جسٹس سسٹم میں اس معاملات میں مقدمہ درج کیا جاسکتا ہے جبکہ سیکشن موجود ہیں، اس درخواست کی استدعا کو قانونی طور پر تسلیم نہیں جاسکتا ، اس طرح کا مقدمہ درج کرنے سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات خراب کرنے کے مترادف ہوگا۔
عدالت نے حکمنامے میں کہا کہ 2013 میں امریکی ڈرونز کے خلاف درخواست کو پشاور ہائیکورٹ نے حدود سے تجاوز قرار دیا تھا، لہٰذا ڈونلڈ ٹرمپ پر مقدمہ اندراج کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈالر نے روپے کو پھر روند ڈالا، قیمت میں بڑااضافہ