پی ٹی آئی پارلیمانی کمیٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(طیب سیف)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی آل پارلیمانی کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں صوبائی ممران اسمبلی ، قومی اسمبلی کے اراکین، سینئٹرز اور دیگر قیادت شریک ہوئی، اجلاس مخصوص نشتوں کے فیصلے پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ اس دوران کچھ رہنماؤں کے درمیان سخت تلخ کلامی بھی ہوئی۔
تفصیلات کے مطابق ذرائع نے کہا کہ پنجاب سے 26 ایم پی ایز کی رکنیت معطل کیے جانے کا معاملہ بھی ایجنڈے میں موجود تھا، عامر ڈوگر نے اجلاس کا آغاز کیا، عامر ڈوگر نے اجلاس میں اسیر رہنمائوں کا خط پڑھ کر سنایا،شیخ وقاص اکرم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جیل میں ہمارے رہنمائوں کو قیدیوں کے حقوق نہیں مل رہے، ہمارے سات کارکن جو قید میں تھے بیماری کی وجہ سے ان کی جان چلی گئی، پارٹی کے اختلافات کو پبلک میں نہ اچھالا جائے۔
نثار جٹ نے خطاب کرتے ہوئے صوبائی بجٹ کے حوالے سے وزیراعلی کے پی علی امین پر تنقید کی اور کہا کہ علی امین بتائیں کہ خان صاحب کے بجٹ کے حوالے سے سٹیٹمنٹ کے بعد بجٹ کیوں پاس ہوا؟ کوئی پارٹی رہنما کوئی بیان دیتا ہے ، دوسرا کوئی اور بیان دیتا ہے، سب کا ایک بیان ہونا چاہئیے، بیرسٹر گوہر کو بانی نے چئیرمین بنایا ہے تو ہم انہیں فل مینڈیٹ دیتے ہیں۔
ذرائع نے کہا کہ نثار جٹ نے کہا کہ بیرسٹر گوہر آپ کھل کر فیصلے لیں، ان کے بعد سلمان اکرم راجہ نے بانی چئیرمین عمران خان کی بہنوں کا دفاع کیا اور کہا کہ کل ہماری کے پی ہائوس میں میٹینگ ہوئی ، علی امین اور بہنیں موجود تھیں، یہ تاثر غلط ہے کہ بہنیں پارٹی کے خلاف اور پارٹی بہنوں کے خلاف ہیںْ
علی محمد خان نے اجلاس سے خطاب میں تجویز دی کہ سوشل میڈیا کو محدود کرنے کا کہا جائے،سوشل میڈیا کو صرف بانی چئیرمین کی رہائی کے مقصد کے لئے استعمال کیا جانا چاہئے، اس سے قبل احتجاج ہوئے، پورا کے پی کے نکلا ، اب پنجاب کو بھی نکلنا ہو گا۔
ذرائع کے مطابق پنجاب پر تنقید کی تو پنجاب کے ایم این اے نے علی محمد خان کو کھری کھری سنا دی، علی محمد خان نے کہا کہ پنجاب جتنا آپ کا ہے اتنا ہمارا بھی ہے،علی محمد خان نے مذاکرات کرنے کی حمایت کی اور کہا کہ آپ مذاکرات کریں ہم آپ کو سپورٹ کرتے ہیں، اگر احتجاج کرنا ہے تو کریں ہم اس پر بھی آپ کے ساتھ ہیں۔
زرتاج گل نے اجلاس سے خطاب میں سلمان اکرم راجہ کی تعریف کی، زرتاج گل نے علی امین گنڈاپور کے بطور وزیراعلی کردار کی تعریف کی اور اسلام آباد میں احتجاج نہ کرنے کا مشورہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اسلام آباد کی بجائے اپنے اپنے حلقوں میں احتجاج کرنا چاہیے، جیل سے جو پیغام آیا ہے اس پر ہمیں سوچنا چاہئے، سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کئے جا سکتے ہیں، حکومت بہت مضبوط ہو گئی ہے، مذاکرات کے لئے کمیٹی بنائی جائے،انہوں نے کہا کہ ان کے نام دئیے جائیں جن کو خان صاحب کہیں گے، ہمارے ممبران کو صرف نا اہل نہیں کیا جا رہا بلکہ سزائیں بھی ہو سکتی ہیں، یہی وقت ہے ہمیں حکمت عملی بنانی ہو گی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں شاہد خٹک پارٹی قیادت پر برس پڑے اور کہا کہ میرا یہ سوال ہے کہ مجھے بتایا جائے کہ پارٹی کے فیصلے کون کرتا ہے؟ جب پارلیمانی پارٹی اجلاس میں بجٹ پاس کرنے کا فیصلہ ہو گیا تھا تو سلمان اکرم راجہ نے ٹوئٹ کیوں کیا؟
شاہد خٹک نے کہا کہ کے پی کے کے کارکنان کو غدار کہا گیا تو پارٹی قیادت چپ کیوں رہی؟ یہ ڈرامے بند کرو ، اگر جیل کے سامنے احتجاج کرنا ہے تو واضح بتایا جائے۔
شاہد خٹک نے علی امین کو گنڈاپور کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ علی امین صاحب نہ میں آپ کا ملازم ہوں، نہ میں آپ کے گھر سے کھاتا ہوں، آپ کون ہوتے ہیں بتانے والے کہ میں صحیح نہیں بولا، عامر ڈوگر نے بھی شاہد خٹک کی باتوں کی تائید کر دی،ذرائع کے مطابق عامر ڈوگر نے بہت شکریہ شاہد خٹک صاحب آپ نے ہماری ترجمانی کی۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ پاکستان تحریک انصاف لمبے ریس کے گھوڑے والی پارٹی ہے، نظرئیے والے ہی صرف پاکستان تحریک انصاف میں رہیں گے، جو نظرئیے پر کھڑے ہیں، انہیں پرواہ نہیں کہ جیل ہو جائے انہیں،انہوں نے کہا کہ مجھے عمران خان نے صرف نظریہ سکھایا ہے، میرا نظریہ میرا ایمان ہے، یہاں کوئی کومپرومائزڈ ہے، کوئی کسی کے کہنے پر لگا ہوا ہے، میں اپنے ایمان اور نظرئیے پر قائم ہوں، مجھے کسی کی بات کی کوئی پرواہ نہیں ہونی چاہئے، کسی پر تہمت لگانا بہت بڑا گناہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے قومی بچت سکیموں پر شرح منافع میں مزید کمی کردی