تحریک انصاف مذاکرات کی آڑ میں منافقت کر رہی ہے ،مرزا اختیار بیگ

Jan 02, 2026 | 00:01:AM
تحریک انصاف مذاکرات کی آڑ میں منافقت کر رہی ہے ،مرزا اختیار بیگ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز) مرزا اختیار بیگ نے کہا ہے کہ سیاسی پارٹیوں میں اعتماد کا فقدان ہے تحریک انصاف مذاکرات کا ماحول نہیں بنا پائی، مذاکرات کی آڑ میں منافقت کر رہی ہے۔

مقبول شو  "گونج مسعود رضا کے ساتھ "میں گفتگو کرتے  ہوئے پاکستان   پیپلزپارٹی کے رہنما مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ مذاکرات کے لیے ماحول بنانے کی ضرورت ہے، شہباز شریف 2 دفعہ بات چیت کے لیے گوہر خان کو کہہ چکے ہیں ،بلاول  خود کہہ چکے ہیں کہ زرداری صاحب مفاہمت کروا سکتے ہیں لیکن تحریک انصاف مذاکرات کرنے کے حق میں نہیں ہے ایک طرف مذاکرات کی بات کرتے ہیں دوسری طرف 8 فروری پہیہ جام کی کال کیوں دی ہوئی ہے ۔پارلیمان میں چیزوں کو بات چیت کے ذریعے ماحول بنایا جاتا ہے پھر بات اوپر پہنچتی ہے میرے خیال سے ان کی یہ سیاسی حکمت عملی ہے کہ وہ مزاحمت اور اشتعال کا بیانیہ بنائیں  اور  وہ اسی کو لے کر چلنا چاہتے  ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اینٹی گورنمنٹ اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ سے ہی ان کی عوام میں مقبولیت برقرار رہ سکتی ہے ۔

  "گونج مسعود رضا کے ساتھ "میں ہی گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما  سینیٹر ناصر بٹ نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات   بلکل ہونے چاہیےاگر رانا ثناء  نے بات کی ہے تو وہ ٹھیک ہی کی ہوگی اور نواز شریف صاحب نے تو کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا  لیکن عمران خان تو اپنی حکومت میں کسی سے بات بھی نہیں کرتا تھا بلکہ اسٹیبلشمنٹ کو کہتا تھا کہ بل پاس کرانے کے لیے بندے لے آوجب ابھی نندن پکڑا گیا اس کے خلاف جب کاروائی ہونی تھی اس وقت بھی پارلیمنٹ میں وہ نہیں آیا تھا عمران خان جب 2018 کے انتخابات  میں کرین سے گر گئے تھے تو میاں نواز شریف نے اپنی انتخابی مہم ایک دن کے لیے ملتوی کر کے ان کی عیادت کے لیے اسپتال گئے تھے اس کے بعد جب میاں صاحب کی بیگم کاانتقال ہوا تو اس شخص نے فون تک نہیں کیا تھا بات اس شخص کی ہو رہی ہے جس کی سوچ میں کوئی فرق نہیں آیا اگر اس کی سوچ میں فرق آجاتا ہے تو  میاں نواز شریف اور شہباز شریف اور زرداری صاحب تو بات کر لیں گے 

پروگرام میں شریک میں شامل پاکستان تحریک انصاف کے رہنما  شوکت یوسفزئی نے کہا کہ مذاکرات پر حکومت کی کنفیوژن دور ہونی چاہیےہمیں الزام دیا جاتا ہے کہ ہم مذاکرات کی بات بھی کرتے ہیں اور احتجاج کی بھی تو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم احتجاج کی بات کرتے کیوں ہیں ہماری بات مان لی جائے تو ہم احتجاج کیوں کریں گےقومی اسمبلی اور سینیٹ کے اپوزیشن لیڈر نہیں ہیں اس وقت تو ماحول کون بنائے گا وہ تو حکومت کا کام ہے آپ ملاقاتوں پر پابندی  لگاتے ہیں   وہاں بہنیں جاتیں ہیں تو  تو واٹر کینن کا استعمال کرتے ہیں ہمارے لوگوں کو نا اہل کرتے ہیں تو پھر کیسے ٹرسٹ قائم ہوگا۔جب بے نظیر بھٹو شہید ہوئی تھی تو 3 دن تک پاکستان جلتا رہا تھا بھٹو صاحب کو پھانسی ہوئی تو کیا کچھ  نہیں ہوا تھا  ہم تو ایسا کچھ بھی نہیں کر رہے ۔آخری پیغام جو آیا ہے عمران خان کا وہ تو یہ ہی ہے کے محمود خان اچکزئی کو تمام اختیارات دے چکے ہیں تو ان سے بات کریں۔