تجارتی ڈیل سے متعلق امریکا اور بھارت کے درمیان اختلافات دور نہ کیے جاسکے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)تجارتی ڈیل سے متعلق امریکا اور بھارت کے درمیان اختلافات دور نہ کیے جاسکے۔
مغربی میڈیا کے مطابق امریکا کی جانب سے بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد بھی امریکا اور بھارت کے مذاکرات جاری ہیں۔
امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ بھارت ایک ایسی مارکیٹ ہے جو امریکا کیلئے بڑی حد تک بند ہے ۔ کئی جیوپولیٹیکل اشوز بھی ہیں جن میں بریکس تنظیم کی رکنیت اور روس سے تیل کی خرید بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ملک بھر میں زلزلے کے شدید جھٹکے
دوسری جانب روس سے تیل خریدنے کے معاملے پر امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ مودی سرکار سے سخت مایوس ہے۔
امریکی وزیر خزانہ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ بھارت روس سے تیل خریدتا ہے اور پھر اسے ریفائنڈ تیل کے طور پر بیچتا ہے، بھارت نے خود کو عالمی کردار ادا کرنے والے ملک کے طور پر پیش نہیں کیا۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کے بعد بھارت کی سرکاری آئل ریفائنریز نے روسی تیل کی خریداری روک دی۔
واضح رہے کہ امریکا سمیت مغربی ممالک سن 2022 سے بھارت پر دباؤ ڈالتے رہے تھے کہ وہ یوکرین جنگ کے سبب روس سے دوری اختیار کرے تاہم مودی سرکار ماسکو سے نئی دہلی کے تاریخی تعلقات اور اقتصادی مجبوریوں کا حوالہ دیتے ہوئے یہ ناطہ کمزور کرنے سے گریز کرتی رہی تھی۔