’’علم و عمل کا کوہ صفا۔امام مالک بن انس علیہ الرحمہ‘‘ نورِ سحر میں  بصیرت افروز علمی نشست 

جسٹس نذیر احمد غازی نے کہا کہ امام مالک فنا فی الرسول ﷺ تھے، جن کی پوری زندگی عشقِ مصطفیٰ ﷺ اور ادبِ مدینہ میں ڈوبی ہوئی تھی

Oct 01, 2025 | 12:34:PM
’’علم و عمل کا کوہ صفا۔امام مالک بن انس علیہ الرحمہ‘‘ نورِ سحر میں  بصیرت افروز علمی نشست 
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)معروف دینی و فکری ٹی وی پروگرام "نورِ سحر" میں ایک بصیرت افروز علمی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع"علم و عمل کا کوہ صفا۔۔۔امام مالک بن انس علیہ الرحمہ" تھا ۔
میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے امام دارالہجرہ، حضرت امام مالک بن انسؒ کی علمی، روحانی اور عاشقانہ زندگی کے مختلف پہلوؤں پر پراثر گفتگو کی۔

جسٹس نذیر احمد غازی نے کہا کہ امام مالک فنا فی الرسول ﷺ تھے، جن کی پوری زندگی عشقِ مصطفیٰ ﷺ اور ادبِ مدینہ میں ڈوبی ہوئی تھی۔

انہوں نے ایک تاریخی واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب خلیفہ ہارون الرشید نے کوفہ کے بعض علماء کے نظریے کی طرف اشارہ کیا کہ گستاخِ رسول کو صرف قید یا کوڑوں کی سزا کافی دینی چاہیے ،تو امام مالکؒ شدتِ جذبات سے تڑپ اٹھے اور فرمایا:اگر یہ امت نبی کریم ﷺ کی ناموس کی حفاظت نہیں کر سکتی، تو پھر اس امت کے باقی رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔

پروفیسر عبدالحمید قادری نے امام مالکؒ کو فقہ اور تدوینِ حدیث کا کوہ ہمالیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپ ایسے دور میں نمایاں ہوئے جب اٹھارہ جلیل القدر ائمہ موجود تھے، مگر حدیث اور فقہ میں آپ کا مقام بے مثال تھا،امام جعفر صادقؑ سے آپ کے تعلق کو "عشق کا رشتہ" قرار دیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امام مالکؒ اس حدیث مبارکہ کو عام کیا کرتے تھے کہ مدینہ کو مکہ پر فضیلت حاصل ہےتو کسی نے کہا کہ ٹھیک ہے لیکن یہ اتنی معروف حدیث تو نہیں ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ بات معروف ہونے کی نہیں، ایمان کی ہے، جب سے کائنات بنی ہے، جبریل امین کسی شہر میں اتنی بار نہیں آئے جتنی بار مدینہ میں۔

ڈاکٹر محمد اقبال چشتی نے امام مالکؒ کی حدیث پر عبور، محبتِ رسول ﷺ اور اہلِ بیت اطہارؑ سے عقیدت کو امت کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا:"امام شافعیؒ فرمایا کرتے تھے کہ زمین پر اگر سب سے صحیح حدیث کی کتاب ہے، تو وہ موطا امام مالک ہے۔"
یہ امام مالکؒ کے اخلاص اور علمی دیانت کی زندہ دلیل ہے۔

مولانا امیر حمزہ نے حضور نبی کریم ﷺ کی اس پیش گوئی کا ذکر کیا جس میں آپؐ نے فرمایا کہ لوگ علم حاصل کرنے اونٹوں پر دور دور سے آئیں گے، اور مدینہ میں ایسا عالم ہوگا جو تمام جہان سے افضل ہوگا، یحییٰ بن معین سمیت کئی محدثین نے اس حدیث کا مصداق امام مالک بن انسؒ کو قرار دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ امام مالکؒ سنتِ نبوی ﷺ پر سختی سے عمل پیرا تھے اور حضرت علیؓ کی اتباع میں اپنی داڑھی ہمیشہ سفید رکھتے تھے۔

امام مالک نے محبت مصطفی کے عملی تقاضوں کو پورا کرنے کا سبق حضرت امام جعفر کی صحبت سے پایایہی سبب ہے کہ خلیفہ وقت کا بیٹا آپ کے علمی و عملی جلال کے سامنے لمحہ بھر نہ ٹھہر پاتا ۔

امیر حمزہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امام مالکؒ نے عشقِ رسول ﷺ کے صرف دعوے نہیں کیے بلکہ اس محبت کے عملی تقاضوں کو اپنے کردار سے ثابت کیا۔ انہوں نے کہا کہ امام مالکؒ کو یہ درجہ حضرت امام جعفر صادقؑ کی صحبتِ فیض بار سے حاصل ہوا۔ یہی وہ روحانی تربیت تھی جس نے آپ کو ایسا علمی و عملی جلال عطا کیا کہ خلیفہ وقت کا بیٹا بھی آپ کے سامنے لمحہ بھر نہ ٹھہر پاتا۔