آؤجاپان چلیں (دوسری قسط )

حافظ شہباز علی hafee23@gmail.com

Oct 01, 2025 | 10:28:AM
 آؤجاپان چلیں (دوسری قسط )
سورس: 24 News
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

جاپان کے مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 11 بج کر 50 منٹ پر میں اپنے میزبان اشفاق الرحمٰن ہاشمی اور سعد کے ہمراہ ہنیڈا ائیر پورٹ سے باہر آئے ۔ ہنیڈا ائیرپورٹ سے باہر حقیقتاً ایک مختلف دنیا تھی، اب ہم ٹوکیو کی سڑکوں پر تھے اور ہمیں اشفاق الرحمن ہاشمی بھائی کے گھر ایباراکی جو سو جانا تھا ۔ایباراکی جوسو ٹوکیو کے ہنیڈا ائیرپورٹ سے تقریبا ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر تھا۔ جوں ہی ہم ٹوکیو کی سڑکوں پر رواں دواں ہوئے تو ہمارے دونوں جانب آسمان سے باتیں کرتی عمارتیں موجود تھیں، ٹوکیو شہر میں روشنیوں کی چکا چوند کے باوجود ایک سکون کا ماحول تھا، شہر کی مارکیٹیں ،ریسٹورنٹس اور دیگر کاروباری مراکز بند ہوچکے تھے۔
 اشفاق الرحمن ہاشمی نے مجھے بتایا کہ رات کے اس پہر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے اس لیے ہم تیزی سے سفر کررہے ہیں ،تاہم دن کے اوقات میں ان سڑکوں پر بے پناہ رش ہوتا ہے، ٹوکیو شہر کی خوبصورتی اور جدید عمارتیں چکا چوند دیکھ کر میری تھکاوٹ اور نیند دونوں ہی اڑ گئیں ، آسمان سے باتیں کرتا ٹوکیو ٹری یا ٹوکیو ٹاور کی مسحورکن روشنی اپنا گرویدہ بنالیا ۔ ہمارا سفر جاری تھا کہ ہم ایک ٹنل میں داخل ہوئے ،یہ تقریبا پانچ کلو میٹر کے لگ بھگ طویل ٹنل تھی جو کہ سمندر اندر سے گزر رہی تھی، میں حیرانی سے جاپان کی ترقی دیکھ رہا تھا۔ ہم تقریبا ًڈیڑھ گھنٹے کی مسافت کے بعد ایباراکی جوسو کی حدود میں داخل ہوئے اور پھر دس سے پندرہ منٹ بعد ہم اشفاق الرحمن کے گھر پہنچ گئے، طویل سفر اور پھر ائیر پورٹ پر تھکا دینے والے امیگریشن کے عمل کے بعد شدت سے بھوک لگ رہی تھی اور ایسے میں اگر آپ کو جاپان جیسے ترقی یافتہ ملک میں دیسی کھانا مل جائے تو مزہ دوبالا ہوجاتا ہے، ہم لوگ گھر پہنچے تو اشفاق الرحمن بھائی کے بیٹوں نے مٹن کا انتہائی لذیذ سالن اور ساتھ میں چپاتی تیار کر رکھی تھی، لذیذ کھاناکھاتے ہی طویل سفرکی تھکن دور ہو گئی، اگلی صبح میرے لیے سب سے اہم کام نیشنل سٹیڈیم ٹو کیو سے اپنا ایکریڈیشن کارڈ وصول کرنا تھا۔


جاپان کے ریلوے سسٹم کے بارے بہت کچھ سن رکھا تھا لیکن اس کو عملی طور پر دیکھنے کا موقع مل رہا تھا ، میں اشفاق الرحمن ہاشمی کے ہمراہ صبح کے وقت گھر سے نکلا ،اب میں حیرتوں کی دنیا میں کھو رہا تھا۔ ہم گھر سے نکلے تو سب سے پہلے جاپان کے زرعی نظام کے بارے میں جاننے کا موقع ملا ،ان دنوں جاپان میں چاول کی کٹائی کا سیزن چل رہا ہے،۔ میرے لیے انتہائی خوشگوار حیرت تھی کہ بڑے تھریشرز کے ذریعے چاول کی کٹائی کی جارہی تھی ،یقین کریں کہ یہ کٹائی کا عمل اتنے عمدہ انداز میں جاری تھا کہ کہیں گرد و غبار نہیں تھا ، جاپان کی حکومت اپنے کسانوں کا خیال رکھتی ہے ،کسان کی فصل اس سے براہ راست خریدی جاتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ کسان کی فصل محفوظ رکھنے کے لیے بڑے بڑے شیلٹرز بھی بنائے گئے ہیں جہاں فصل مکمل طور پر محفوظ رہتی ہے۔
 اگر جاپانی چاولوں کے ذائقے کی بات کی جائے تو یہ ذائقے میں تو بالکل ہمارے پاکستانی چاول جیسا مگر ہاضمے میں بہت بہترہے ،چاول جتنا بھی کھالیں بالکل بھی گیس یا جلن نہیں ہوتی۔ ہم لوگ تقریباً آدھے گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد میڈورینو اسٹیشن پہنچے،جس ریلوے سسٹم کے بارے میں سنا پڑھا کرتے تھے اب اس ریلوے سسٹم کو دیکھنے اور اس پر سفر کرنے کا موقع مل رہا تھا۔ میں نے پہلے روز میڈورینو اسٹیشن سے اوکاچی ماچی جانا تھا اس کے لیے 1120 ین کا ٹکٹ لیا، ایک طرف ٹرین کا سفر شروع ہوا اور دوسری جانب مجھے جاپانی تہذیب و تمدن کو قریب سے دیکھنے کا موقع مل رہا تھا۔ میڈورینو اسٹیشن سے مجھے اوکاچی ماچی اسٹیشن پہنچنے میں تقریباً 53 منٹ لگے ۔ اوکاچی ماچی اسٹیشن سے مجھے ٹرین تبدیل کرکے کیوگوجی اسٹیشن جانا تھا، میں نے ایک جاپانی شہری سے اپنی اگلی ٹرین کے بارے میں دریافت کیا، اب کیا تھا وہ شخص میرے ساتھ تقریباً 15 منٹ کی واک کرکے اگلے پلیٹ فارم تک چھوڑنے آیا، بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ اس شخص نے میرے اگلا ٹکٹ لینے کے بعد مجھے پلیٹ فارم پر جاکر یہ تک بتایا کہ مجھے کس سٹاپ پر اترنا ہے ۔ تقریبا 27 منٹ کے بعد میں اپنی اگلی منزل کیو گوجی اسٹیشن پہنچ گیا ،کیو گوجی سٹیشن سے میں ٹوکیو کے نیشنل سٹیڈیم کے بالکل سامنے باہر نکلا ۔ٹوکیو نیشنل سٹیڈیم میں میڈیا ایکریڈیشن سینٹر پہنچنے کے لیے وہاں ڈیوٹی پر موجود جاپانی نوجوان سے جب میں نے راستہ پوچھا تو مجھے حیرت ہوئی کہ اس شہری نے مجھے اردو میں سلام کیا، میں نے اس نوجوان سے دریافت کیا کہ کیا آپ کو اردو آتی ہے تو اس نے کہا جی بالکل اب میں اس نوجوان سے محو گفتگو ہوگیا ،اس نے مجھے پوچھا کہ آپ پاکستان کے کس شہر سے آئے ہیں تو میں نے اسے بتایا کہ میں لاہور سے ہوں ۔میرے دریافت کرنے پر اس نوجوان نے اپنا نام عمر بتایا،اس نوجوان نے بتایا کہ وہ پانچ سال تک فیصل آباد میں پاک جاپان پارٹنر شپ پروگرام میں کام کرکے آیا ہے جب اس نوجوان نے فیصل آباد کا ذکر کیا تو میری خوشی اور دوبالا ہوگئی ،میں نے اس نوجوان کو بتایا کہ فیصل آباد میرا آبائی شہر ہے، کچھ دیر اس نوجوان سے گفتگو کے بعد میں میڈیا ایکریڈیشن سینٹر میں داخل ہوا جہاں تقریبا ًپندرہ منٹ کے بعد میرا ایکریڈیشن کارڈ اور دیگر سامان میرے حوالے کیا گی.

یہ بھی پڑھیں:فلپائن میں زلزلے سےتباہی،60 افراد ہلاک،درجنوں زخمی،ہنگامی حالت نافذ

 اب یہاں سے میرے صحافتی کیرئیر میں ایک نئے سفر کا آغاز ہورہا تھا، جی میں دنیائے کھیل کی سب سے بڑی عالمی چیمپئن شپ ورلڈ اتھلیٹکس چیمپئن شپ کور کرنے کے لیے ٹوکیو نیشنل اسٹیڈیم کے میڈیا سینٹر میں داخل ہوا تو مجھے اندازہ ہوا دنیائے کھیل کے اس سب سے بڑے ایونٹ کو کور کرنا کتنا بڑا اعزاز ہے ۔ پہلے روز میں نے تقریباً دو سے اڑھائی گھنٹے میڈیا سینٹرمیں گزارے اور اس دوران مختلف ممالک سے آئے ہوئے میڈیا کے لوگوں کے ساتھ بات چیت ہوئی جس سے دنیا کے مختلف ممالک میں میڈیا کے لوگوں کے کام کرنے کے طریقہ کار سے آگاہی ملی۔اسی دوران میڈیا کے پرانے دوست یوسف مغل سے رابطہ ہوا ۔ یوسف مغل گزشتہ طویل عرصے سے جاپان میں مقیم ہیں اور وہاں پر گائیڈ کا کام کرتے ہیں ، یوسف ٹوکیو کے نیشنل اسٹیڈیم پہنچے اور پھر میں نے ٹوکیو نیشنل سٹیڈیم سے پہلی رپورٹنگ کی، ٹوکیو نیشنل سٹیڈیم میں قیام کے دوران مجھے خاصی بھوک بھی لگ چکی تھی مگر میں سوچ رہا تھا کہ کیا کھایا جائے ،تاہم جب یوسف مغل سے ملاقات ہوئی تو پہلے تو ہم لوگ اپنے ماضی کی یادیں تازہ کرتے رہے اور پھر ہم ٹوکیو کے وسط میں موجود پاکستانی کھانوں کے ریسٹورنٹ نواب ریسٹورنٹ پہنچے ۔

(جاری ہے)