غزہ  جنگ بندی کا معاہدہ عارضی ہے، نیتن یاہو دوبارہ خونی کھیل کھیلے گا:سلیم بخاری 

Oct 01, 2025 | 00:09:AM
غزہ  جنگ بندی کا معاہدہ عارضی ہے، نیتن یاہو دوبارہ خونی کھیل کھیلے گا:سلیم بخاری 
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(فرخ احمد)معروف تجزیہ کار سلیم بخاری نے غزہ میں جنگ بندی کے حالیہ معاہدے کو عارضی اور مختصر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کبھی کسی معاہدے کی پاسداری نہیں کی، مقاصد حاصل ہونے کے بعد غزہ میں دوبارہ سے خونی کھیل کھیلا جائے گا۔

انھوں نے پروگرام ’’سلیم بخاری شو‘‘ میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ  صدر ٹرمپ ایک قابل اعتبار گارنٹر ہے۔ٹرمپ تو خود ایک فریق ہے جو کہ فلسطینویوں کی نسل کشی میں نیتن یاہو کا برابر کا شریک ہےکیونکہ ٹرمپ اگر پشت پناہی نہ کرتا تو کیا  فلسطنیویوں کے ساتھ یہ ظلم روا رکھا جاسکتا تھا ، ٹرمپ ہی تو وہ آدمی ہے جس نے وہ تباہ کن ہتھیار اسرائیل کو دیئے تھے  جو کہ غزہ میں بڑی  تباہی کا سبب بنے تھے۔

سلیم بخاری نے مزید کہا کے  جنگ بندی کو ایسی شرائط سے   مشروط کیا گیا ہے جو  کہ حما س کا گلہ گھونٹنے اور  غزہ کو فلسطینیوں سے پاک کرنےکی ایک گھناونی سازش ہے۔انہوں نے استفسار کیاپاکستان اپنی افواج کو وہاں بھیجے گا جس کا کام فلسطین کی آزادی کے لیے جدو جہد کرنے والے مسلمانوں کا قتل عام کرنا ہوگا، کس کے اندر یہ حوصلہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اس قتل و غارت گری کے لیے بھیجے۔

اس فارمولے کے تحت سابق برطانوی وزیر اعظم کو نام لیا جارہے جو اس اتھارٹی کو ہیڈ کریں گے جواس معاہدے کے نتیجے میں  قائم کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ٹونی بلیئر کا نام کوئی بھی مسلمان قبول کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ یہ وہ شخص ہے جو سینکڑوں نہیں ہزاروں بے گناہ عراقیوں کے قتل عام میں ملوث ہے۔جس نے معصوم عراقیوں کا قتل عام صر ف اس لیے کیا کہ عراق کے پاس بہت بڑی تعداد میں خطرناک ہتھیار ہیں۔بخاری صاحب نے ٹونی بلیر کو فساد کی دوسر ی شکل قرار دیا۔

انہوں نے سوال کیا  کہ مسلم سربراہاں عرب سپرنگ کو کیسے بھول گئے انہوں نے امریکہ کی سازش کے تحت مسلم لیڈروں کے ساتھ جو کیا۔کیا وہ کسی کو یاد نہیں۔مسلم امہ اپنی تاریخ کو کیسے  بھول سکتی ہے۔کیا امریکن امپریلزم کے خلاف جو بھی حکمران یا لیڈر آیا  اس کا انجام کیا ہوا۔

بیس نکاتی معاہدے میں ایسے راستے ہیں کہ جہاں دل چاہے نیتن یاہو اس معاہدے سے باہر نکل سکتا ہے۔یہ اتنا کمزور معاہدہ ہے کہ اس میں نیتن یا ہو کو کھلی چھٹی ہے جبکہ حماس کی پکڑ ہر پوائنٹ پر ہے، اس سوال کے جواب  میں کے مستقبل کا جو بھی نظام ہو گا اس میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔

سلیم بخاری نے کہا کہ کیسی عجیب بات ہے کہ حماس فریق تو ہے لڑے وہ اور معاہدہ  بھی اسی کے ساتھ ہو لیکن وہ وہاں رہ نہیں سکتا۔کیا ہو گیا ہے مسلم لیڈر شپ کو  کہ حماس جو کہ مین فریق ہے وہ وہاں سے نکل جائے  اور اس کو راستہ دیا جائے۔یہ وہ منافقت ہے کہ جو ستر سال سے جاری نہ رہتی تو فلسطین کا مسئلہ کب کا حل ہو چکا ہوتا۔

معاہدے کے مطابق مسلم فورسز اس بات کو یقینی بنائیں کے حماس اپنی تمام ذمہ داریوں سے ہٹ جائے  انہوں نے کہا کہ لگ ایسا رہا ہے کہ ہم کسی بڑی سازش کا شکار ہو رہے ہیں۔نہ جانتے ہوئے اور اگر جان بوجھ کر ہو رہے ہیں تو یہ فلسطین کاز کے ساتھ بہت بڑی غداری ہے۔جو بھی اس  میں ملوث ہوگا اس کو ایک دن اس کا حساب ضرور دینا پڑے گا۔

جو لوگ اس زوم کا شکار ہیں کہ فلسطین کا معاملہ نبٹ جائے گا  اور سب گزر جائے گا تو وہ کسی بھول میں ہیں۔کیونکہ فلسطینی صرف فلسطین میں نہیں ہیں بلکہ وہ پوری دنیا میں ہیں۔