ایران میں 3 رکنی عبوری قیادت نے کام سنبھال لیا، مسلح افواج دشمن کو مایوس کریں گی، مسعود پیزشکیان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ خانہ ای کے بعد عبوری قیادت سامنے آ گئی۔ تین رکنی عبوری قیادت کونسل کا ایک رکن صدر مسعود پیزشکیان ہیں، دوسرے دو ارکان غلام حسین مھسنی اور آیت اللہ علی رضا عرفی آیت اللہ خامنہ ای کے قریبی معاون رہے ہیں۔مسعود پیزشکیان کی تصویر اس ماہ کے شروع میں تہران میں کابینہ کے اجلاس میں لی گئی۔
صدر مسعود پیزشکیان ابھی اتوار کی شام تہران کے سرکاری ٹی وی پر نظر آئے جس میں ان کا ایک ریکارڈ شدہ ویڈیو پیغام نشر کیا گیا۔
پیزشکیان نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتنے کے بعد کہا کہ "عبوری قیادت کونسل" نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق، پیزشکیان خود اس تین رکنی عبوری کمیٹی کا حصہ ہیں جس نے آیت اللہ خامنہ ای کے بعد قیادت کے خلا سے بچنے کے لیے قدم اٹھایا ہے جبکہ ایران کا علما کا ادارہ اگلے سپریم لیڈر کا انتخاب کرنے میں وقت لگائے گا۔

ایران میں علما کو "سپریم لیڈر" یا رہبر کا "انتخاب" پہلی مرتبہ کرنا پڑ رہا ہے۔ اس سے پہلے آیت اللہ خمینی نے 1979 کے انقلاب کے بعد اقتدارِ اعلیٰ پر فائض رہنے کے بعد طویل عرصہ تک ایران کی حکومتوں اور اداروں کی رہبری کی، ان کی وفات تک ان کو ولیِ فقیہہ کا درجہ مل چکا تھا۔ ا امام خمینی نے وصیت کر کے اپنے نائب خامنہ ای کو اپنی رحلت کے بعد نظامِ حکومت کی رہنمائی کے لئے منتخب کیا تھا۔ خامنہ ای نے ایسا کوئی انتظام نہین کیا تھا، کل اسرائیل کے میزائل حملے میں ان کے شہید ہونے کے بعد شیعہ فرقہ کی روحانی قیادت کا خلا بھی پیدا ہو گیا اور اس کے ساتھ اہیران کے موجودہ نطام میں بہت سے اہم امور مین حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار رکھنے والی ہستی کا خلا بھی پیدا ہو گیا ہے۔
اب تہران کے سرکاری ٹی وی سے بتایا گیا ہے کہ عبوری قیادت کونسل نے کام سنبھال لیا ہے۔
عبوری قیادت کونسل مین صدر مسعود پیزشکیان کے ساتھ عدلیہ کے سربراہ محسنی ایجہی اور آیت اللہ علی رضا عرفی کے نام بتائے جا رہے ہیں۔ یہ دونوں شخصیات آیت اللہ خامنہ ای کے نزدیک تصور کی جاتی رہی ہیں۔ ایران میں عدالتی نطام پارلیمنٹ پر بھی حاوی ہے اور عدلیہ ہی طے کرتی رہی ہے کہ کون الیکشن لڑنے کا اہل ہے۔
غلام حسین محسنی کو خامنہ ای نے یکم جولائی 2021 کو ابراہیم رئیسی کی جگہچیف جسٹس کے عہدے پر فائز کیا تھا۔
غلام حسین محسنی اس سے قبل ایران کے وزیرِ انٹیلی جنس (2005-2009)، پراسیکیوٹر جنرل اور عدلیہ کے نائب سربراہ کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
نیا روحانی قائد کون ہو سکتا ہے
امام خمینی اور ان کے بعد آیت اللہ خامنہ ای کی از حد طاقتور شخسیتوں نے روحانی اور ایران کے نظام میں انتظامی سطح پر دونوں طرح کی قیادت سنبھالے رکھی۔
روحانی سطح پر آیت اللہ خامنی ای کے منبر پر بیٹھنے کے لئے ایک اہم نام امام خمینی کے پوتے حسن خمینی کا بھی لیا جاتا رہا ہے۔
حسن خمینی
54 سالہ خمینی اگلے سپریم لیڈر کے لیے یکے بعد دیگرے مذاکرات میں سب سے زیادہ زیر بحث نام رہے ہیں۔
وہ ایران کے اسلامی انقلاب کے بانی روح اللہ امام خمینی کے پوتے ہیں اور تہران میں اپنے دادا کے مزار کے متولی بھی ہیں۔
اگرچہ انہوں نے کوئی عوامی عہدہ نہیں رکھا ہے،حسن خمینی کے متعلق عام تاثر یہ رہا ہے کہ وہ ایک اصلاح پسند شخصیت ہیں جو عوامی زندگی اور پالیسی کے بارے میں اپنے اعتدال پسند خیالات کے لیے مشہور ہیں۔ انہوں نے 2016 میں پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے انتخاب لڑنے کی کوشش کی لیکن آیت اللہ خامنہ ای کے براہ راست زیر اثر نگراں کونسل نے انہیں نااہل قرار دے دیا تھا۔
مسلح افواج دشمن کو مایوس کریں گی، مسعود پیزشکیان
مسعود پیزشکیان نے اپنے ٹی وی سے نشر ہونے والے مختصر خطاب مین یہ بھی کہا کہ ایران کی مسلح افواج دشمنوں کو "مایوس" کریں گی، اور وہ فی الحال "دشمنوں کے ٹھکانوں کو کچل رہے ہیں"۔
قوم سے اپنے خطاب سے آدھا گھنٹہ قبل، صدر مسعود پیزشکیان کے آفیشل اکاؤنٹ سے X پر ایک پوسٹ شائع کی گئی جس میں انہوں نے کہا کہ حالیہ حملہ "اسلامی جمہوریہ کی حکومت کے اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو نبھانے کے عزم میں خلل نہیں ڈالے گا"۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر کی موت کا "دکھ" "لوگوں کے ذہنوں میں" طویل عرصے تک رہے گا۔
یہ بھی پڑھیئے: امریکا و اسرائیل کے حملے کے بعد ایرانی صدر کا پہلا بیان سامنے آگیا