بیوروکریٹ کا غیرملکی شہریت کو چھپانا مس کنڈکٹ ہوگا، غیرملکی شہریت لینے کیلئے حکومت کی اجازت لازمی قرار
Stay tuned with 24 News HD Android App
(بابر شہزاد ترک) وفاقی حکومت نے سول بیوروکریسی میں شفافیت اور احتساب یقینی بنانے کیلئے بڑا اقدام کرتے ہوئے سول سرونٹس کی غیر ملکی شہریت اور دہری نیشنلٹی سے متعلق سخت قواعد نافذ کر دیے ہیں، جن کے تحت غیر ملکی شہریت چھپانا ’’مس کنڈکٹ‘‘ تصور ہو گا جبکہ غلط معلومات دینے یا حقائق پوشیدہ رکھنے والے افسران کی ملازمت بھی ختم کی جا سکے گی.
وزیراعظم کی منظوری کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ’’سول سرونٹس (ڈسکلوزر اینڈ ریگولیشن آف فارن نیشنلٹی) رولز 2026‘‘ کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، نئے قواعد کا اطلاق تمام سول سرونٹس پر ہو گا جبکہ غیر ملکی سفری دستاویزات رکھنے والے افسران بھی قواعد کے دائرے میں آ گئے ہیں، نوٹیفکیشن کے مطابق تمام سرکاری ملازمین اپنی، شریک حیات اور زیر کفالت بچوں کی غیر ملکی شہریت، غیر ملکی پاسپورٹ، مستقل رہائش، امیگریشن اسٹیٹس اور دیگر غیر ملکی وابستگیوں سے متعلق مکمل تفصیلات فراہم کرنے کے پابند ہوں گے.
مزید برآں، حکومت نے اہلخانہ کی غیر ملکی شہریت ظاہر کرنا بھی لازمی قرار دیا ہے، قواعد کے تحت نئی بھرتی کے وقت امیدواروں کیلئے غیر ملکی شہریت سے متعلق ڈیکلریشن جمع کرانا لازمی ہو گا جبکہ حاضر سروس افسران ہر سال غیر ملکی شہریت سے متعلق گوشوارے جمع کرائیں گے، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن تمام افسران کا مرکزی ریکارڈ محفوظ رکھے گا جبکہ ہر کیڈر ایڈمنسٹریٹر کو متعلقہ افسران کی شہریت کا ریکارڈ مرتب اور اپ ڈیٹ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے، نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ کوئی بھی سول سرونٹ بغیر پیشگی اجازت غیر ملکی شہریت حاصل نہیں کر سکے گا۔ اگر کوئی افسر غیر ملکی شہریت حاصل کرنے، امیگریشن پروگرام میں شامل ہونے یا غیر ملکی سفری دستاویزات رکھنے کے باوجود معلومات ظاہر نہیں کرتا تو اس کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی.
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ غیر ملکی شہریت چھپانے والے افسر کی تقرری کالعدم قرار دی جا سکے گی جبکہ غلط معلومات فراہم کرنے والوں کے خلاف سول سرونٹس رولز کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی، نوٹیفکیشن کے مطابق غیر ملکی شہریت یا متعلقہ معلومات ظاہر نہ کرنا باقاعدہ طور پر ’’مس کنڈکٹ‘‘ تصور ہو گا، دوسری جانب ذرائع کے مطابق حالیہ برسوں میں بیوروکریسی میں دہری شہریت اور بیرون ملک مستقل رہائش سے متعلق سامنے آنے والے معاملات کے بعد حکومت نے نگرانی کا نیا نظام متعارف کرایا ہے تاکہ قومی مفادات، حساس معلومات اور ریاستی امور کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے، نئے قواعد کے تحت غیر ملکی شہریت رکھنے والے افسران کی مکمل جانچ پڑتال بھی کی جائے گی