انگلینڈ اور کانگو کے میچ میں انہونی ہو گئی، کانگو کو میچ کے 75 منٹ تک ایک گول کی برتری

Jul 01, 2026 | 22:25:PM
 انگلینڈ اور کانگو کے میچ میں انہونی ہو گئی، کانگو کو میچ کے 75 منٹ تک ایک گول کی برتری
کیپشن: انگلینڈ اور کانگو کے میچ کے پہلے ہاف کے 44 ویں منٹ میں کانگو کے فاؤل پر توقع کے مطابق پینلٹی کک نہ ملنے پر برٹش کھلاڑی مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویبڈیسک) اٹلانٹا سٹیڈیم میں انگلینڈ اور ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو کی ٹیموں کے 32 کے راؤنڈ میں ناک آؤٹ میچ کے دوسرے راؤنڈ کے بیس منٹ گزر گئے ہیں اور کانگو نے میچ کے پہلے ہاف کے 7  ویں منٹ میں گول کر کے انگلینڈ کی ٹیم پر جو برتری حاصل کی تھی وہ  اب تک برقرار ہے۔ ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ یہ میچ ایک اپ سیٹ کی طرف بڑھ رہا ہے۔

 میچ کے پہلے ہاف کے 7 ویں منٹ میں ڈی آر کانگو کے سٹرائیکر  برائن کیپینگا نے انتہائی ناقابل یقین حملہ کر کے گول کر دیا تھا۔

اس گول کے بعد انگلینڈ کی ٹیم نے گول برابر کرنے کے لئے سرتوڑ کوشش کی جو پہلے ہاف کے آخری سیکنڈ تک جاری رہی لیکن بے نتیجہ رہی۔

انگلینڈ نے پہلے ہاف میں بیشتر وقت گیند پر کافی قبضہ رکھا، مگر میچ پر قبضہ حاصل نہیں کر سکا۔ دوسرے ہاف میں بھی پہلے بیس منٹ کے دوران بال پر کنٹرول زیادہ وقت انگلینڈ کا رہا لیکن کانگو کی گول پوسٹ ان کی پہنچ سے ہنوز دور ہے۔ 

کھیل کے 44 ویں منٹ میں انگلینڈ کے کھلاڑیوں نے کانگو کی ڈی میں  گول پوسٹ پر ایک زبردست حملہ کیا لیکن کانگو کے ڈیفیندر کے فاؤل کی وجہ سے یہ کوشش  نتیجہ تک نہیں پہنچ سکی۔ ریفری نے کانگو کے ڈیفیندر کو ییلو کارڈ تو دکھا دیا لیکن انگلینڈ کو ان کی توقع کے مطابق پینلٹی کک نہیں دی۔  انگلینڈ کی اپیل پر وی آر ریویو ہوا لیکن ریفری کا فیصلہ صحیح مانا گیا اور انگلینڈ کو پینلٹی نہیں ملی اور فری کک پر گزارا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیئے:  تجربہ اور مہارت بمقابلہ خواب اور انرجی؛ انگلینڈ اور کانگو ورلڈ کپ میں آپنے سامنے آگئیں 
انگلینڈ کیے پہلے ہاف میں  کم بیک کی کوشش میں  مثبت پہلو یہ نمایاں رہا کہ  انگلینڈ نے گول کھانے کے بعد حوصلہ نہیں ہارا۔ اس نے حملوں کی تعداد بڑھائی، کانگو کو  اس کے ہی ہاف میں دھکیلنے کی کوشش کی، اور میچ کا بہاؤ واپس لینے کی جدوجہد کی۔
انگلینڈ کی کم بیک کی سٹرگل کا یہ منفی پہلو نمایاں رہا کہ یہ دباؤ زیادہ تر علاقائی تھا، فیصلہ کن نہیں۔ یعنی گیند تو آگے رہی، مگر واضح گول کے مواقع اتنی تعداد میں نہیں بنے کہ کانگو کا دفاع ٹوٹ جاتا۔
 پہلے ہاف کے ساتویں منٹ مین پہلا گول کر لینے کے بعد کانگو نے غیر متوقع  منظم کوشش کر کے انگلینڈ کے سخت جارحانہ حملوں کے سامنے  دفاع کو منظم رکھا۔ یہی فرق ہے۔ 

انگلینڈ کے حملے ناکامیوں کے ساتھ مزید سخت ہوتے گئے لیکن کانگو نے اپنی لائنیں کافی حد تک برقرار رکھیں اور انگلینڈ کو آسان راستہ نہیں دیا۔
اب دوسرا ہاف مکمل طور پر انگلینڈ کے کوچ اور سینئر کھلاڑیوں کا امتحان ہے۔ اگر وہ صرف رفتار بڑھائیں گے تو شاید کانگو کو ہی کاؤنٹر اٹیک کے مواقع ملیں۔ لیکن اگر وہ حملوں میں تنوع لائیں، ونگز استعمال کریں، اور باکس کے اندر بہتر موومنٹ پیدا کریں، تو برابر کرنے کے امکانات اب بھی موجود ہیں۔

میچ کے اولین 45 منٹ کے بعد، یہ میچ ایک نفسیاتی جنگ بن چکا ہے۔ اگر انگلینڈ  دوسرے ہاف کے اگلے 15 منٹ میں گول نہیں کرتا تو دباؤ ہر گزرتے منٹ کے ساتھ دگنا ہوتا جائے گا، جبکہ کانگو کے کھلاڑی ہر کامیاب ٹیکل اور ہر کلیئرنس کے ساتھ مزید یقین حاصل کریں گے۔

 اب یہ  احساس  بڑھ رہا ہے کہ  پہلا گول ہی اب بھی اس میچ کا فیصلہ کرے گا۔ اگر انگلینڈ برابر کر لیتا ہے تو میچ کا پلڑا پھر انگلینڈ کی طرف جھک سکتا ہے۔ لیکن اگر کانگو اگلا گول کر دیتی ہے، تو انگلینڈ کے لیے واپسی تقریباً ناممکن ہو جائے گی۔