دہشت گردہتھیار ڈال دیں یا ہم انہیں ختم کردیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر

محسن نقوی کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے ، اس پر تبصرہ نہیں کروں گا، پاکستان کی آبادی بڑھ گئی ، مزید صوبے بننے چاہئیں

Jul 31, 2026 | 15:31:PM
دہشت گردہتھیار ڈال دیں یا ہم انہیں ختم کردیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز )پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ دہشت گردوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، دہشت گرد ہتھیار ڈال دیں ورنہ ختم کر دیئے جائیں گے، وزیر داخلہ محسن نقوی کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے، اس پر بات نہیں کروں گا، پاکستان کی آبادی پہلے کی نسبت 4 گنا بڑھ گئی ہے، مزید صوبے اور انتظامی یونٹس بننے چاہئیں ، گڈ گورننس کے بغیر مسائل حل نہیں ہوں گے۔

سکیورٹی معاملات پر نیوز کانفرنس کے دوران ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بتایا کہ فورسز نے 40 ہزار 348 آپریشنز کیے، 819 جوان شہید ہوئے جبکہ 2084 دہشت گرد مارے گئے، بلوچستان میں 31 ہزار 80 اور خیبر پختونخوا میں 7 ہزار 177 آپریشن کئے گئے، 2 ہزار 84 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، 2023 میں شہدا کی تعداد زیادہ تھی دہشت گرد کم مارے جا رہے تھے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بتایا کہ پاکستان کے دیگر علاقوں میں صرف 2 ہزار 91 آپریشن کیے گئے، 2026 میں بم دھماکوں کے 28 واقعات ہوئے، بم دھماکوں میں زیادہ تر افغان شہری ملوث تھے، دہشت گرد ریاست کے سامنے جھکیں ورنہ بھرپور جواب دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے جان بوجھ کر منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، پاکستان میں آئین اور قوانین سب کے لیے یکساں ہیں، ریاست سے وفاداری ہر شہری کا حق ہے، پاکستان ہی ہماری آخری پہچان ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں 322 پاکستانی شہری شہید ہوئے، دہشت گردوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، دہشت گردوں کو ہتھیار ڈالنے ہوں گے یا ہم انہیں ختم کردیں گے ، دہشت گردوں کو اب سمجھ آگیا ہے ان سے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ 

 ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کچھ جماعتوں کی جانب سے حقوق کی بات کی جاتی ہے لیکن کیا اپنے فرائض سے آگاہ ہیں؟ ملک کے دشمنوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، ہارڈ اسٹیٹ وہ ہے جہاں تمام معاملات آئین و قانون کے مطابق ہوں، ریاست ہے تو شہری ہے۔

 انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل پانچ کہتا ہے وفاداری صرف ریاست سے ہوگی، ریاست ہے تو سیاست ہے، ریاست ہے تو جان ہے، ریاست ہے تو نام ہے، بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں مخصوص عناصر شامل ہیں، افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کو سپورٹ کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردوں کا ایک قبیلہ ہے جس میں اسٹیٹس کو ہے، یہ اسٹیٹس کو یہ ہے کہ غریب کا بچہ پڑھے نہیں ہمیشہ ان کا غلام رہے۔

پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ معرکہ حق میں دشمن کی حکمت عملی ناکام ہونے پر بلوچستان پر نظریں جمائی گئیں، مزدوروں کو قتل کیا جاتا ہے کہ بلوچستان میں ترقی نہ آسکے، یہ کہتے ہیں جو ہزار ارب سے زائد بجٹ ملتا ہے اس میں حصہ دو، سردار چاہتے ہیں سو ارب کے بجٹ میں حصہ ملے لیکن نہیں دیں گے۔

 انہوں نے کہا کہ سردار کہتے ہیں ہمیں حصہ نہیں دو گے تو دہشت گردی کرائیں گے، کئی سردار دہشت گردی میں براہ راست ملوث ہیں، یہ لوگ لیویز فورس کو اپنی سرداری فورس سمجھتے ہیں، ان کو لیویز فورس کی تنخواہیں چاہئیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ سرداروں کو عادت ہے لیویز میری ذاتی فورس ہے میں اس کا سردار ہوں، انہیں کاروبار کے نام پر اسمگلنگ کرنے کی عادت ہے، افغانستان اور بھارت کے درمیان بی ایل اے کے علاوہ اور کیا چیز مشترکہ ہے؟ بھارت اور افغانستان دہشت گردی کراتے ہیں، کاروبار کے نام پر منشیات اور ڈیزل سمگل کیا جاتا ہے۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کی معاونت کر رہی ہے اور بھارتی میڈیا ان عناصر کو غیرضروری طور پر نمایاں کرتا ہے،دہشت گرد معصوم بچوں اور بچیوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں، خواتین کو ہنی ٹریپ کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے، اور بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں مخصوص عناصر ملوث ہیں۔

انہوں  نے کہا کہ بلوچستان کا بنیادی مسئلہ وہاں کا سرداری اور ایلیٹ نظام ہے، جبکہ ایک مخصوص ’اسٹیٹس کو‘ عوام، خصوصاً غریب طبقے کو تعلیم اور ترقی سے محروم رکھنا چاہتا ہے، انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچستان میں ہونےوالےدہشت گردی کےثبوت میڈیا کودکھادیے اور شہدا پولیس کو پاک فوج اورصحافیوں کا خراج عقیدت پیش کیا۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جاری انسدادِ دہشت گردی آپریشنز کے ذریعے ’فتنہ الہندوستان‘ کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے، ان کے مطابق دہشت گردی سے متاثرہ عام شہریوں کے دکھ درد، دہشت گردوں سے لاتعلقی اختیار کرنے والے خاندانوں کے بیانات اور غیور بلوچ عوام کی وطن سے محبت کے اظہار کو بھی میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا۔

ترجمان نے الزام عائد کیا کہ بھارتی گودی میڈیا فیک نیوز پر مبنی پروپیگنڈے کے لیے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مذموم مقاصد کے تحت استعمال کر رہا ہے، اگر دہشت گرد عوام کو تکلیف پہنچائیں گے تو ریاست بھی ان کے خلاف بھرپور اور سخت کارروائی کرے گی، جبکہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو سخت انجام تک پہنچایا جائے گا۔

انہوں نے مزید دعویٰ کرتے ہوئے کہنا تھا  کہ ’فتنہ الہندوستان‘ سے وابستہ دہشت گرد خواتین کو ہنی ٹریپ کے ذریعے بی ایل اے میں شامل کرتے ہیں، اور یہ بھی کہا کہ ’فتنہ الخوارج‘ اور ’فتنہ الہندوستان‘ کے بھارتی سرپرست موجود ہیں، بلوچستان میں پولیس اور لیویز کے خلاف 105 واقعات بھی پیش آئے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی استعدادِ کار میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے اور صوبے کی پولیس دہشت گرد عناصر سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے، رواں سال اب تک 18 ارب روپے مالیت کی منشیات ضبط کی جا چکی ہیں جب کہ 4 ہزار 500 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کہ حکومت کا مقصد بلوچستان کے عوام، خصوصاً نوجوانوں کو بااختیار بنانا ہے کیونکہ صوبے کی سب سے بڑی طاقت اس کے نوجوان ہیں، ان کے مطابق بعض سردار نہیں چاہتے کہ نوجوان تعلیم، لیپ ٹاپ اور ٹیکنالوجی کی طرف آئیں بلکہ وہ انہیں اسلحہ اٹھانے کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ بلوچستان میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے زیرِ تعمیر ہیں، پانی کے نئے ذخائر اور نہریں بنائی جا رہی ہیں جبکہ صحت، تعلیم اور دیگر سماجی شعبوں کے لیے بھی خطیر فنڈز مختص کیے گئے ہیں، شاہراہوں کے منصوبوں سے علاقے میں ترقی اور خوشحالی آئے گی۔

انہوں نےکہا کہ بھارت اور افغان طالبان کا ڈی این اے ایک ہے، بھارت آقا ہے اور افغان طالبان اس کے غلام ہیں،افغان طالبان دہشت گردی کو بطور کاروبار استعمال کر رہے ہیں اور عام افغان شہری موجودہ طالبان حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔  افغان طالبان حکومت کا طرزِ عمل اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں اور وہ فتوے دے کر مسلمانوں کو قتل کرتے ہیں۔

لیفٹینٹ جنرل احمد شریف چودھری نے دعویٰ کیا کہ افغان طالبان حکومت کا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور آر ایس ایس سے تعلق اور نظریاتی مماثلت ہے جب کہ فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے سرپرست آر ایس ایس اور ہیبت اللہ ہیں، انہوں نے افغان وزیر سے متعلق سوال پر کہا کہ’ یہ اپنے باپ بھارت کو رپورٹیں دینے جاتے ہیں۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ محسن نقوی کے بعض بیانات سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ وزیر داخلہ کی ذاتی رائے ہے اور اس پر فوج تبصرہ نہیں کریں گے، پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے گڈ گورننس ناگزیر ہے، نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق تھا، جن میں سے 13 کا تعلق اچھی حکمرانی سے ہے، تاہم ان پر مؤثر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث مسائل برقرار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی آبادی چار گنا بڑھ چکی ہے جبکہ انتظامی ڈھانچہ وہی ہے، اس لیے نئے تقاضوں کے مطابق سوچنا ہوگا، مسئلہ کشمیر پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور رہے گا، پاکستان سے آج بھی ’ کشمیر بنے گا پاکستان‘ کی آواز بلند ہوتی ہے، جبکہ کشمیری عوام بھی پاکستان سے اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں، ’پاکستان کا سب سے لاڈلا بچہ کشمیر ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ پاک فوج فلسفہ شہادت کے پیچھے کھڑی ہے، شہدا سے متعلق ایسی بات کی گئی جس سے بھارت خوش ہوتا ہے،آپ وہ بات کررہے ہیں جس سے بھارت اپنے بیانیہ کو چلانا چاہ رہا ہے، وردی پہن کر ہم نے اپناآج آپ کے کل کیلئے قربان کرنے کی نیت کرلی۔

انھوں نے کہا کہ کیا کوئی یہ سوچ سکتا ہے وہ محض پیسوں کیلئے اپنی جان دے، ڈیوٹی پر تعینات فوج کا جوان قوم کی سکیورٹی کیلئے اپنی جان داؤ پر لگا دیتا ہے،عوام گورننس سے مطمئن ہیں تو ٹھیک ، مطمئن نہیں تو آئین کے مطابق فیصلہ کریں، آزادکشمیر کے معاملات کو آزادکشمیر پولیس ہینڈل کررہی ہے۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ گورننس کا عمل جمودکا شکارنہیں رہ سکتا،وقت کے ساتھ ٹیکنالوجی، آبادی اور ریاستی ضروریات میں تبدیلی آتی رہتی ہے، پاکستان کے تمام سیاسی اور انتظامی معاملات کا راستہ آئین، قانون اور جمہوری عمل سے ہوکرگزرتا ہے، پاکستان اور سعودی عرب کا تعلق خصوصی نوعیت کا ہے،ہم محافظ حرمین شریفین ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :27 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ، 6 میں کمی ہوئی