نورِ سحر میں’’ا ولاد کی کامیابی اور والدین کی تنہائی‘‘ موضوع پر  بصیرت افروز نشست

جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ مغربی تہذیب اور مادیت پرستی نے ہماری تہذیبی قدروں، محبتوں اور مروتوں کا جنازہ نکال دیا ہے

Sep 30, 2025 | 11:14:AM
  نورِ سحر میں’’ا ولاد کی کامیابی اور والدین کی تنہائی‘‘ موضوع پر  بصیرت افروز نشست
کیپشن: فوٹو 24 نیوز
سورس: 24 نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)معروف علمی و فکری ٹی وی پروگرام "نورِ سحر" میں ایک بصیرت افروز نشست کا انعقاد کیا گیا، جس کا موضوع "اولاد کی کامیابی اور والدین کی تنہائی: ایک تلخ حقیقت" تھا۔

میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ مغربی تہذیب اور مادیت پرستی نے ہماری تہذیبی قدروں، محبتوں اور مروتوں کا جنازہ نکال دیا ہے۔

انہوں نے والدین کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہر باپ اپنی اولاد کے لیے جنیدِ عصر ہے اور ہر ماں رابعہِ عصر،ان کا کہنا تھا کہ والدین کی دعا اولاد کے حق میں رد نہیں ہوتی، اس لیے ان کی دعائیں لینے اور بددعاؤں سے بچنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام میں اولڈ ہاؤس کا کوئی تصور نہیں اور والدین کی نافرمانی کا انجام عبرتناک ہے۔

پروفیسر حافظ ناصر محمود نے کہا کہ مصروفیات کے باوجود جو لوگ والدین کی صحبت سے محروم ہیں، وہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی نعمت سے محروم ہیں۔

انہوں نے والدین کی تربیتی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ جن والدین نے اپنی اولاد کو دنیا کی کامیابی تو دی، مگر دین اور رسول ﷺ کی محبت نہ دے سکے، وہی آج اولڈ ہاؤسز میں تنہا زندگی گزار رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اولاد اسی وقت دنیا و آخرت میں کام آئے گی جب وہ دین کے قریب ہوگی۔

پروفیسر ڈاکٹر امجد علی جعفری نے قرآن کی روشنی میں کامیابی کے مفہوم کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ والدین کی خوشنودی ہی اصل کامیابی ہے، عبادت کا تتمہ والدین کے حقوق کی ادائیگی میں ہےاور اللہ کی رضا والدین کی رضا سے مشروط ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر رافعہ رفیق نے کہا کہ اولاد اگر والدین کو اپنی قیمتی ترین شے بھی دے دے، تب بھی ان کے احسانات کا بدلہ نہیں چکا سکتی،انہوں نے کہا کہ جس طرح آج ہم اپنے والدین کے ساتھ نہیں بیٹھ رہے، کل ہمارے بچے بھی ہمارے ساتھ نہیں بیٹھیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو والدین کی اہمیت صرف زبانی نہیں بلکہ عملی طور پر سکھانی ہوگی۔

مذہبی سکالر مفتی ذیشان احمد حسان نے کہا کہ والدین شرف و کرامت کا پیکر ہیں اور دنیا کے تمام مذاہب میں ان کی عظمت کا ذکر ملتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مغربی تہذیب کی یلغار کے باعث نوجوانوں میں 55 فیصد ایسے خیالات پائے جاتے ہیں جو انہیں والدین سے دور کر رہے ہیں۔