اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان

Jul 30, 2025 | 15:20:PM
اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

( 24 نیوز) اسٹیٹ بینک نے شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا تمام معاشی اعشاریے دیکھ کر شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ مئی اور جون میں مہنگائی کی شرح میں کچھ اضافہ ہوا ہے اور ملک میں اس وقت مہنگائی کی شرح 7 اعشاریہ 2 فیصد ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ برآمدات (ایکسپورٹس) میں اضافہ 4 فیصد ہوا،  کرنٹ اکاؤنٹ کنٹرول کے لیے برآمدات کا بڑھنا ضروری ہے، اس سال ترسیلات زر 38 ارب ڈالر سے زیادہ رہیں جو گزشتہ مالی سال 30 ارب ڈالر تھیں۔ 

جمیل احمد نے کہا کہ  ورکرز ترسیلات 8 ارب ڈالر بڑھی ہیں، ورکرز ترسیلات کے سبب کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہا۔

یہ بھی پڑھیں:بچوں کی خوشیاں دوبالا، گرمیوں کی چھٹیوں میں توسیع؟ اہم خبر آگئی

انہوں نے کہا  کہ کرنٹ اکاؤنٹ کنٹرول کے لیے برآمدات کا بڑھنا ضروری ہے، اس سال ترسیلات زر 38 ارب ڈالر سے زیادہ رہیں جو گزشتہ مالی سال 30 ارب ڈالر تھیں۔ 

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ مالی سال 22 میں کرنٹ اکاؤنٹ قومی پیداوار کے 4 فیصد سے زائد تھا ، ہم نے اپنے تمام قرض ادائیگیاں وقت پر کیں،  ملکی امپورٹ اور دیگر زرمبادلہ ضرورت کو پورا کیا، ہمارے زر مبادلہ ذخائر 26 ارب ادائیگیوں کے بعد 5 ارب ڈالر بڑھے ہیں۔ 

گورنر جمیل احمد نے کہا کہ رواں مالی سال 25.9 ارب ڈالر کی ادائیگیاں ہیں، رواں مالی سال کی ادائیگیوں میں 22 ارب ڈالر اصل ہے جب کہ 4 ارب ڈالر سود ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ مالی سال 25 میں معاشی نمو 2.7 فیصد رہی،  زرعی شعبے کی نمو 0.6 فیصد خاصی کم رہی تاہم رواں مالی سال میں زرعی شعبہ بہتر ہونے سے نمو بڑھے گی جب کہ قومی پیدوار کی نمو 3.25 سے 4.25 فیصد رہے گا۔ 

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں آئندہ بھی اضافے کا امکان ہے، معاشی سرگرمیاں بڑھنے سے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں اضافہ ہوا۔

انکا مزید کہنا تھا کہ مہنگائی کی شرح رواں مالی سال 5 سے 7 فیصد رہے گی، کچھ مہینے مہنگائی کی شرح 7 فیصد سے زیادہ رہ سکتی ہے۔