حکومت کا شوگر انڈسٹری کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ

Jul 30, 2025 | 14:12:PM
حکومت کا شوگر انڈسٹری کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)حکومت نے شوگر انڈسٹری کو مرحلہ وار ڈی ریگولیٹ کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا ۔
ذرائع کے مطابق نئے مجوزہ فریم ورک کے تحت ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے پاس صرف ایک ماہ کی چینی کی کھپت کے برابر ذخیرہ ہوگا جبکہ اس کے علاوہ چینی کی قیمتوں یا ترسیل میں کسی قسم کی سرکاری مداخلت نہیں کی جائے گی۔
ذرائع وزارت صنعت و پیداوار کے مطابق حکومت صرف 5 لاکھ ٹن چینی کا بفر اسٹاک رکھے گی تاکہ ہنگامی حالات میں فوری رسپانس ممکن ہو، بقیہ مارکیٹ معاملات نجی شعبہ خود سنبھالے گا، اس حوالے سے تجاویز کا حتمی مسودہ تیار کر لیا گیا ہے جو آئندہ ہفتے وزیراعظم کو پیش کیا جائے گا۔
تجاویز کے مطابق اگر چینی کی قیمتیں قابو میں نہ آئیں تو حکومت کی جانب سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت سبسڈی کا حجم بڑھایا جا سکتا ہے تاکہ کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ میں کم از کم ماہانہ اُجرت 40 ہزار روپے مقرر،نوٹیفکیشن جاری
حکومت کے مقرر کردہ ہدف کے تحت پیداواری صلاحیت بڑھانے کیلئے شوگر ملز کو 50 فیصد سے بڑھا کر 70 فیصد تک کیا گیا ہے، جس سے سالانہ 2.5 ملین ٹن اضافی چینی تیار کی جا سکے گی۔