بیٹی کی پنشن شادی کی حیثیت پر نہیں،حق کی بنیاد پر دی جائے گی،سپریم کورٹ

Jul 30, 2025 | 13:09:PM
بیٹی کی پنشن شادی کی حیثیت پر نہیں،حق کی بنیاد پر دی جائے گی،سپریم کورٹ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)سپریم کورٹ نے طلاق یافتہ بیٹی کو والد کی پنشن شادی کی حیثیت سے نہیں بلکہ حق کی بنیاد پر دینے کا فیصلہ جاری کردیا۔
سپریم کورٹ نے طلاق یافتہ بیٹی کو والد کی پنشن دینے سے متعلق فیصلہ جاری کرتے ہوئے سندھ حکومت کا امتیازی سرکلر کالعدم قرار دے دیا ۔
 جسٹس عائشہ ملک کے دس صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پنشن خیرات یا بخشش نہیں بلکہ ایک آئینی و قانونی حق ہے جو سرکاری ملازم کے اہلخانہ کو منتقل ہوتا ہے اور اس میں تاخیر جرم کے زمرے میں آتی ہے۔
 عدالت نے واضح کیا کہ بیٹی کی پنشن شادی کی حیثیت کے بجائے مالی ضرورت اور حق کی بنیاد پر دی جانی چاہیے اور طلاق کا وقت والد کی وفات سے پہلے یا بعد میں غیر متعلقہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ہائیکورٹ نے بیان قلمبندکرانےکیلئے ویڈیو لنک کی سہولت فراہم کر دی
سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کے 2022 کے امتیازی سرکلر کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیٹی کی پنشن کو شادی سے مشروط کرنا آئین کے آرٹیکل 9، 14، 25 اور 27 کی خلاف ورزی ہے۔عدالت نے کہا کہ پاکستان کا صنفی مساوات میں عالمی درجہ بندی میں آخری نمبر پر ہونا افسوس ناک ہے۔
 فیصلہ درخواست گزار صورت فاطمہ کے حق میں آیا جس کی پنشن سندھ ہائیکورٹ نے بحال کی تھی لیکن سندھ حکومت نے ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا،سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کی اپیل مسترد کر دی۔