سعودی عرب کا یو اے ای سے 24 گھنٹوں میں یمن سے افواج نکالنے کا مطالبہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر یمن سے اپنی افواج واپس بلائے۔
خبر ایجنسی کے مطابق سعودی وزارت خارجہ نے یو اے ای کے حالیہ اقدامات کو نہایت خطرناک قرار دیا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یمن میں امارات کی جانب سے علیحدگی پسند گروہوں کی حمایت سعودی عرب کی قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ ایسے اقدامات نہ صرف سعودی عرب بلکہ یمن اور پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق یمن کی صدارتی کونسل (پی ایل سی) کے سربراہ رشاد العلیمی نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ اعلان کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں:”ایک سال ۔۔۔کئی کارنامے“مریم نواز نے ایک اور ریکارڈ بنا ڈالا
رشاد العلیمی نے کہا کہ یمن میں موجود یو اے ای کی تمام فورسز کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنا ہو گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یمن کی تمام بندرگاہوں اور زمینی و بحری گزرگاہوں پر 72 گھنٹوں کے لیے مکمل فضائی، زمینی اور بحری ناکہ بندی نافذ کی جا رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یمن کی صدارتی کونسل کی جانب سے یہ احکامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سعودی قیادت میں قائم ملٹری اتحاد نے یمن میں محدود فضائی کارروائی کی، جس میں مکلا بندرگاہ کو نشانہ بنایا گیا۔
سعودی اتحاد کے مطابق یہ کارروائی یو اے ای کی حمایت یافتہ جنوبی علیحدگی پسند تنظیم، سدرن ٹرانزیشنل کونسل (STC)کو فراہم کی جانے والی غیر ملکی فوجی معاونت کے خلاف کی گئی۔