آؤ جاپان چلیں 

حافظ شہباز علی ( hafee23@gmail.com  )

Sep 29, 2025 | 20:01:PM
آؤ جاپان چلیں 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(پہلی قسط )بچپن سے ہی جاپان کی ترقی کی کہانیاں سنا کرتے تھے اور خواہش تھی کہ کبھی موقع ملے تو جاپان جائیں تو گزشتہ دنوں قدرت نے یہ موقع فراہم کیا اور جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں ہونے والی ورلڈ اتھلیٹکس چیمپئن شپ کو کور کرنے کے لیے ٹوکیو جاپان جانے کا موقع ملا اور جاپان کی ترقی اور یہاں کی تہذیب و تمدن کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ یہاں میں مرحلہ وار لاہور سے ٹوکیو پھر ٹوکیو میں گذرے پانچ دن اور پھر ٹوکیو سے لاہور واپسی کے سفر کو اپنے الفاظ میں ڈھال کر اپنے قارئین تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
14 ستمبر کو  میں نے لاہور کے علامہ اقبال ائیر پورٹ سے تھائی ائیر لائن کے ذریعے براستہ بنکاک ٹوکیو کے لیے اڑان بھری۔ تقریبا پانچ برس بعد مجھے بیرون ملک سفر کرنے کا موقع ملا اس سفر کو لے کر میں اس لیے زیادہ پرجوش تھا ایک تو بچپن سے جاپان دیکھنے کی خواہش کے ساتھ ساتھ اولمپک گولڈ میڈلسٹ  جیولن تھرور ارشد ندیم کو بین الاقوامی ایونٹ میں کور کرنے کا موقع مل رہا تھا ۔ بہر حال اس یاد گار سفر کا آغاز ایک نوجوان کے ساتھ بات چیت سے کچھ یوں ہوا کہ یہ نوجوان اپنے نکاح کے چار برس بعد اپنی اہلیہ کے پاس ہانک کانگ جارہا تھا اس لیے یہ خاصا پرجوش تھا بہر حال ساڑھے چار گھنٹے کی مسافت کے بعد جب ہم بنکاک ائیر پورٹ پہنچے ۔بنکاک ائیر پورٹ پر تقریبا ساڑھے سات گھنٹے رکنا تھا اور یہ ساڑھے سات گھنٹے گذارنا خاصا دشوار لگ رہا تھا اور راستے میں یہی سوچ رہا تھا کہ اتنا طویل وقت کیسے گزرے گا تاہم جب ہم بنکاک پہنچے تو وہاں کی چہل پہل دیکھ کر یہ وقت گذرنے کا پتا ہی نہیں چلا ،، میں تیسری مرتبہ بنکاک کے  ذریعے سفر کررہا تھا اس لئے مجھے یہاں کے حالات کا اندازہ تھا لہذا اس لیے مجھے یہاں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔لابی میں کچھ وقت گزارنے کے بعد میں فلائیٹ ٹرانسفر لاؤنچ میں چلا گیا اور وہاں وقت گذرنے کا احساس ہی نہیں ہوا۔ بنکاک ائیر پورٹ پورا ایک شہر ہے اور یہاں آپ کو دنیا کے تمام ٹاپ برانڈ کی مصنوعات دستیاب ہیں یہاں 24 گھنٹے رونق رہتی ہے ۔
بنکاک ائیر پورٹ پرساڑھے سات گھنٹے بعد میری اگلی منزل ٹوکیو تھی۔ جب ہم دوبارہ جہاز میں سوار ہوئے تو اس مرتبہ ماحول بالکل مختلف تھا کیوں کہ اس فلائیٹ مجھ سمیت صرف چھ پاکستانی مسافر تھے جہاز نے بنکاک سے ٹوکیو کے لیے اڑان بھری اور اس سفر کا آغاز ہوگیا ۔  میرے ایک جانب ایک جاپانی نوجوان بیٹھا تھا اور دوسری سائیڈ پرایک آسٹریلین شہری بیٹھا تھا آسٹریلوی شہری مارٹن کے ساتھ تو تھوڑی بہت بات چیت ہوئی مگر یقین جانیں کہ جاپانی نوجوان نے پورا سفر اپنے کام سے کام رکھا۔ تاہم ساڑھے چھ گھنٹے کا سفر طے کرکے ہم جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو کے ہنیڈا ائیرپورٹ پہنچے تو جہاز سے باہر آتےہی دنیا تبدیل ہوچکی تھی کیوں میں اس وقت دنیا کے سب سے ترقی یافتہ شہر ٹوکیو میں پہنچ چکا تھا۔
یہاں سے میری زندگی کے ایک یاد گار سفر کا آغاز ہوتا ہے مگر یہ آغا اتنا خوشگوار اس لیے نہ تھا کہ جاپان کے امیگریشن قوانین سے واقفیت نہ ہونے کے باعث ایک چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے مجھے ٹوکیو ائیر پورٹ پر امیگریشن میں مشکل کا سامنا کرنا پڑا ۔
ہوا کچھ یوں کہ جب میں نے پاکستان میں جاپان کے ویزے کے لیے درخواست دی تو طریقہ کار کے مطابق میں نے درخواست میں رہائش کے لیے ہوٹل کا ایڈریس لکھا اور جب ٹوکیو پہنچے تو وہاں پر امیگریشن فارم پر میں نے انجانے میں مختلف ایڈریس لکھ دیا جس پر امیگریشن آفیسر نے مجھے روک لیا۔اب امیگریشن حکام مجھے ایک دفتر میں لے گئے جہاں مجھے سوال و جواب کا سامنا کرنا پڑا یہ سلسلہ تقریبا ایک گھنٹے تک جاری رہا تاہم اس کے بعد جب امیگریشن حکام کی تسلی ہوئی تو انہوں نے نہ صرف مجھ سے معذرت کی بلکہ باعزت طریقے سے امیگریشن کا عمل مکمل کروایا، اس دوران جاپانی حکام نے ورلڈ اتھلیٹکس فیڈریشن اور جاپان میں میرے میزبان اشفاق الرحمن صاحب سے میری آمد کی گارنٹی بھی لے لی اس دوران ایشین اتھلیٹکس فیڈریشن کے نائب صدر میجر جنرل (ر) محمد اکرم ساہی مسلسل مجھ سے رابطے میں رہے جبکہ اشفاق الرحمن صاحب نے بھی کمال شفقت کا مظاہرہ کیا ۔ جس وقت امیگریشن حکام مجھ سے سوال جواب کررہے تھے عین اس وقت پاکستان سے جاپان جانے والی ایک فٹ بال ٹیم کو بھی امیگریشن حکام نے روکا یہ فٹ بال ٹیم ایک دوسری فلائٹ سے ٹوکیو پہنچی تھی مگر ان کے پاس دستاویزات مکمل نہیں تھے اور نہ ہی ان کے شیڈول اور دیگر معاملات مکمل تھے جس پر اس ٹیم کو ڈی پورٹ کردیا گیا ،،، جاپانی امیگریشن حکام جب کسی بھی شخص کو ڈی پورٹ کرتے ہیں تو وہ ایک کالے رنگ کے کپڑے سے ڈی پورٹ ہونے والے شخص کے ہاتھ کو باندھ دیتے ہیں تاہم ہمارے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ یہاں سے غریب اور بھولے بھالے افراد کو لوگ بہلا پھسلا کر بیرون ملک بھجواتے ہیں ۔ 
امیگریشن کا عمل مکمل ہونے کے بعد ٹوکیو میں میرے سفر کا آغاز ہوا 
امیگریشن کا عمل مکمل ہونے کے بعد مجھے اپنے بیگ کی فکر ہوئی میں سوچ رہا تھا کہ بیگ مجھے کیسے ملے گا کیوں کہ میری فلائٹ ہنیڈا ائیرپورٹ پر لینڈ کئے ہوئے دو گھنٹے سے زائد کا وقت ہوچکا تھا لیکن مجھے اس خوشگوار حیرت ہوئی جب میں نے بنکاک سے آنے والی فلائٹ کے سامان والی سائیڈ اپنے اٹیچی کیس کو باحفاظت رکھا ہوا پایا۔ میں نے اپنا اٹیچی کیس لیا تو ائیر پورٹ سیکیورٹی کی خاتون آفیسر نے مجھ سے دریافت کیا کہ اس بیگ کا ٹیگ دکھا دیں جو میں نے دکھا دیا جس کے بعد میں روٹین کی کاروائی مکمل کرکے باہر نکلا تو میرے میزبان اشفاق الرحمن ہاشمی صاحب اپنے بھتیجے سعد کے ساتھ میرے استقبال کے لیے موجود تھے. اشفاق الرحمن ہاشمی صاحب میرے استاد محترم جناب چوہدری ارشد ستار صاحب کے کلاس فیلو تھے میری ان سے پہلی ملاقات ہورہی تھی مگر اشفاق الرحمن صاحب نے جس محبت اور اپنائیت سے میرا استقبال کیا اس کو دیکھ کر یوں لگا جیسے ہمارا برسوں کا تعلق ہے ۔
جاری ہے

دیگر کیٹیگریز: بلاگ
ٹیگز: