اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کا نیا سکینڈل
تحریر ; میاں افتخار رامے
Stay tuned with 24 News HD Android App
آج کل میڈیا اور سوشل میڈیا پر اداکار حمزہ علی عباسی کی بڑی بہن مشہور ٹک ٹاکر اور ڈرما ٹالوجسٹ فضیلہ عباسی کا منی لانڈرنگ کیس ڈسکس ہورہا ہے جس نے ہر طرف ہلچل مچا دی ہے ۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے نے فضیلہ عباسی کی منی لانڈرنگ کی تفصیلات حاصل کرلیں ہیں جس کے مطابق 22 بنک اکاؤنٹس سے تقریباً 13 لاکھ ڈالرز کی رقم بیرون ملک بھجوائی گئی جس کی ایف بی آر کو بھی کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ فضیلہ عباسی کی ایف بی آر میں ڈکلئیر سالانہ آمدن 4 لاکھ سے 60 لاکھ روپے تک درج ہے ۔ ظاہر شدہ آمدن اور اصل مالی سرگرمیوں میں واضح تضاد ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق ڈاکٹر فضیلہ کے اپنے اور جوائنٹ اکاؤنٹ دبئی اسلامی بینک ، ایم سی بی ، یو بی ایل اور جے ایس بینک میں موجود تھے،انہوں نےڈالرزاور درہم میں بڑے پیمانے پر مشکوک لین دین کئے، تمام بینک اکاؤنٹس میں غیر قانونی رقوم کی ترسیلُ کی گئی ،حوالہ اور ہنڈی کے بھی شواہد پائے گئےہیں۔
فضیلہ عباسی پاکستان میں ڈرماٹالوجسٹ کی حیثیت سے کام کرتی ہیں ان کی ذاتی ویب سائیٹ پر آپ سکن کے علاج کے لیے پاکستان ، دبئی اور لندن میں اپائنٹمنٹ بک کرسکتے ہیں ، ویب سائٹ کے مطابق ڈاکٹر فیضیلہ عباسی 2003 سے پریکٹس کررہی ہیں اور انھوں نے میڈیکل سکول مکمل کرنے کے بعد سینٹ جانز انسٹی ٹیوٹ آف ڈرماٹولوجی، کنگز کالج لندن، جو دنیا کا معروف ڈرماٹولوجی ادارہ ہے، سے کلینیکل ڈرماٹولوجی میں پوسٹ گریجویشن کی تعلیم حاصل کی۔
فضیلہ عباسی کا تعلق کسی عام خاندان سے نہیں یہ ایک ریٹائرڈ آرمی افیسر کی بیٹی ہیں اور انکی والدہ نسیم اختر چودھری ملتان بار میں وکیل تھیں ،اور 2002 سے 2007 تک مخصوص نشستوں پر ق لیگ کی ایم این اے رہ چکی ہیں جبکہ دوسری مرتبہ 2008 سے 2013 تک پیپلزپارٹی کی ایم این اے رہیں۔پاکستان میں قانون کی بالادستی اور بااثر شخصیات کے احتساب کا معاملہ ہمیشہ بحث طلب رہا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بااثر افراد قانونی گرفت سے بچ نکلتے ہیں، معاشرے میں انصاف کے دوہرے معیار کی وجہ سے عام آدمی کا نظامِ قانون پر اعتماد کمزور ہو رہا ہے۔ نتیجتاً، قانون سب کے لیے برابر ہونے کے نظریے کے باوجود، عملی طور پر بااثر شخصیات پر اس کا اطلاق ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
2015 میں بھی پاکستان میں ایک ایسا ہی منی لانڈرنگ کا کیس سامنے آیا تھا جس میں ماڈل ایان علی پانچ لاکھ ڈالر بیرون ملک منتقل کرنے کے الزام میں گرفتار ہوئی تھیں ، ایان علی پانچ ماہ تک جیل میں بھی رہیں اور ان پر فرد جرم بھی عائد ہوچکی تھی لیکن بعدازاں لاہور ہائی کورٹ نے ان ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دے دیا تھا۔
کہتے ہیں کہ پیسہ ہاتھ کی میل ہے اگر یہ ہی پیسہ دونمبری سے کمایا جائے تو ہاتھ ہی نہیں بلکے نصیب بھی میلہ کردیتا ہے ، اب دیکھتے ہیں کیا قانون اس کیس میں اپنا اثر دکھائے گا یا معروف ماڈل ایان علی کے کیس کی طرح یہ کیس بھی فائلوں کی نظر ہوجائے گا ۔