سکھوں کی بھارت کو للکار، خالصتان ریفرنڈم کا اعلان

Sep 27, 2025 | 13:43:PM
سکھوں کی بھارت کو للکار، خالصتان ریفرنڈم کا اعلان
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)مودی سرکار کی فسطائیت اور ہندوتوا نظریات نے نہ صرف بھارت کے سیکولر تشخص کو داغدار کیا بلکہ اقلیتوں کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز کردیا ہے۔

 سکھ برادری پر جابرانہ رویے اور دباؤ کے باوجود خالصتان تحریک مزید زور پکڑ رہی ہے۔

سکھ فار جسٹس تحریک کے کوآرڈینیٹر اندرجیت سنگھ گوسل نے اعلان کیا ہے کہ اگلا خالصتان ریفرنڈم کینیڈا کے شہر اوٹاوا میں 23 نومبر 2025 کو ہوگا۔

 ان کا کہنا تھا کہ وہ سکھ فار جسٹس کے جنرل کونسلر گرپتونت سنگھ پنوں کی حمایت کے لیے سامنے آئے ہیں اور بھارت کو کھلے عام للکار رہے ہیں۔

گرپتونت سنگھ پنوں نے بھی مودی سرکار کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور واضح دھمکی دی کہ بھارتی حکومت اندرجیت سنگھ کو جھوٹے ہتھیاروں کے کیس میں پھنسانے کی کوشش کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں:امریکا میں بھارتی کرائے کے قاتل نکھل گپتا کے کیس میں اہم انکشاف 

 انہوں نے کہا کہ 23 نومبر کو اوٹاوا میں خالصتان ریفرنڈم بھرپور طریقے سے منعقد ہوگا، جہاں ووٹ ڈالے جائیں گے۔

پنوں نے مودی حکومت کو للکارتے ہوئے کہا کہ اگر ہمت ہے تو کینیڈا، امریکا یا یورپ میں آ کر گرفتاری کر کے دکھائے۔

 انہوں نے بھارتی قومی سلامتی کے مشیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’اجیت دوول! تمہارا سمن تیار ہے اور میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔‘‘

رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ مودی سرکار بیرون ملک سکھوں کو نشانہ بنانے کے لیے خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے نیٹ ورکس استعمال کر رہی ہے۔

 اب بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے مقابلے میں خالصتان کا قیام ہر سکھ کی آواز بن چکا ہے۔