دریائے سوات میں طغیانی، سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی، 18 سیاح ڈوب گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)خیبرپختونخوا کے سیاحتی علاقے سوات میں سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی، ایک ہی خاندان کے 10 افراد سمیت 18 سیاح ڈوب گئے، 4 نعشیں نکال لی گئیں ، 3 افراد کو بچا لیا گیا جبکہ 11 افراد لاپتہ ہیں۔
خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں سے نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں جبکہ دریائے سوات بپھر گیا ہے، ندی نالوں میں طغیانی آئی ہے جس نے قریبی علاقوں کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔
ڈسکہ سے سیر کیلئے جانے والے شہری نے بتایا کہ میرے خاندان کی 4 خواتین اور 6 بچے سیلابی ریلے میں بہہ گئے جبکہ ہمارے علاوہ بھی 3 افراد دریا برد ہو گئے، صبح ناشتے کیلئے دریائے سوات کے کنارے موجود تھے کہ سیلاب آیا اور لوگ پھنس گئے۔
مزید پڑھیں:مون سون کی زبردست انٹری, بادلوں کی گرج چمک,محکمہ موسمیات نے خبردار کر دیا
ریسکیو حکام نے بتایا کہ 80 اہلکار ریسکیو آپریشن میں شریک ہیں، پانی کے تیز بہاؤ کے باوجود امدادی کارروائیاں جاری ہیں، خراب موسم اور دریا کی تیز روانی کے باعث باقی سیاحوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے، اب تک 2 بچوں سمیت 4 افراد کی نعشیں مل گئی ہیں۔
ڈی جی ریسکیو خیبرپختونخوا شاہ فہد نے بتایا کہ مختلف علاقوں میں سیلاب میں پھنسے ہوئے 3 افراد کو بچا لیا گیا ہے، دریائے سوات میں ابھی پانی کی سطح بلند ہے، 5 مختلف علاقوں میں تلاش کا کام جاری ہے۔
حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو ندی نالوں کے قریب نہ جانے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے، سوات اور گردونواح میں بارشوں کا سلسلہ آئندہ چند روز تک جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
جانی نقصان کے بعد پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا نے الرٹ جاری کردیا
دوسری جانب سوات میں جانی نقصان کے بعد پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا نے الرٹ جاری کردیا،پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دریائے سوات میں انتہائی درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے،دریائے سوات میں خوازہ خیلہ کے مقام پر پانی کی سطح 77,782 کیوسک تک پہنچ چکی ہے،شدید بارشوں کے باعث پشاور، چارسدہ اور نوشہرہ کے اضلاع کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے،مراسلے میں انسانی جانوں، املاک،فصلوں اور مویشیوں کے تحفظ کےلیے فوری احتیاطی اقدامات کی ہدایت دی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے نےسیلاب سےمتاثر ہونے والے علاقوں کی نشاندہی کرکےوہاں حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کے احکامات جاری کردئیے،ریسکیو،سول ڈیفنس اور دیگر ہنگامی اداروں کونشیبی اورحساس علاقوں میں ہائی الرٹ رہنےکی ہدایات کردی۔
دریائے کابل اور اس کےمعاون دریاؤں کےکنارےآبادیوں کوممکنہ خطرات سے بروقت آگاہ کیاجارہا ہے۔ضلعی حکام کو ہدایت کی گئی ہےکہ وہ متاثرہ علاقوں کی آبادی کومحفوظ مقامات پر منتقل کریں۔انتظامیہ ریلیف کیمپوں میں خوراک، ادویات اور رہائش کی سہولیات فوری طور پر مہیا کریں۔
کاشتکاروں اور مویشی پال حضرات اپنےمویشیوں کو دریاؤں کے کناروں اورنشیبی علاقوں سے دور محفوظ مقامات پر منتقل کریں،عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر اور خطرناک مقامات پر گاڑیوں کے استعمال سے اجتناب کریں،پانی جمع ہونے کی صورت میں مشینری اور دیگر ضروری آلات اہم مقامات پر پہلے سے پہنچائے جائیں تاکہ فوری کلیئرنس ممکن ہو۔
پی ڈی ایم اے کا صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹر چوبیس گھنٹے فعال ہے،شہری کسی بھی ہنگامی صورتحال یا معلومات کے لیے ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔