اندھیرا ہار گیا، عزم جیت گیا

تحریر:ملک اشرف

Feb 26, 2026 | 17:43:PM
اندھیرا ہار گیا، عزم جیت گیا
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

پاکستان کے عدالتی نظام میں روزانہ بے شمار کہانیاں جنم لیتی ہیں، مگر کچھ کہانیاں محض مقدمات تک محدود نہیں رہتیں بلکہ وہ حوصلے، عزم اور انسانی ارادے کی طاقت کی علامت بن جاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک متاثر کن داستان حیدر علی چٹھہ کی ہے، جنہوں نے بصارت سے محروم ہونے کے باوجود لاہور ہائیکورٹ کے معزز ایوانوں میں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

قانون کا شعبہ بظاہر الفاظ، دلائل اور دستاویزات کی دنیا ہے، جہاں دیکھنا ایک بنیادی ضرورت سمجھا جاتا ہے۔ لیکن حیدر علی چٹھہ کی زندگی اس تصور کو چیلنج کرتی ہے، وہ عدالت میں پیش ہوتے ہیں، اپنے مؤکلین کے مقدمات کی پیروی کرتے ہیں اور قانونی نکات پر مکمل گرفت کے ساتھ دلائل دیتے ہیں، ان کی گفتگو میں اعتماد ہوتا ہے اور ان کے انداز میں پیشہ ورانہ سنجیدگی نمایاں ہوتی ہے۔

یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ بصارت سے محرومی ایک عملی مشکل ہے۔ عدالتوں کے پیچیدہ ماحول، فائلوں کے انبار اور طریقہ کار کی باریکیوں کے درمیان کام کرنا کسی بھی وکیل کے لیے چیلنج ہوتا ہے، مگر حیدر علی چٹھہ نے ان رکاوٹوں کو اپنی کمزوری بننے کے بجائے اپنی طاقت میں بدل دیا ہے۔

 انہوں نے ثابت کیا کہ اصل بصارت آنکھوں سے نہیں بلکہ ذہن اور ارادے سے ہوتی ہے، ان کی کامیابی محض ذاتی کامیابی نہیں بلکہ یہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک سوال بھی ہے۔ ہم اکثر معذوری کو ایک مستقل رکاوٹ سمجھ لیتے ہیں اور ایسے افراد کو مواقع دینے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ لیکن حیدر علی چٹھہ کی مثال یہ واضح کرتی ہے کہ اگر مواقع فراہم کیے جائیں تو معذور افراد نہ صرف خود مختار بن سکتے ہیں بلکہ اپنے شعبوں میں نمایاں مقام بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

قانونی برادری میں ان کی موجودگی نوجوان وکلاء کے لیے بھی ایک سبق ہے، یہ سبق یہ ہے کہ کامیابی کے لیے سہولیات سے زیادہ عزم ضروری ہوتا ہے، وسائل کی کمی یا جسمانی محرومی انسان کو روک نہیں سکتی اگر اس کے اندر آگے بڑھنے کا جذبہ موجود ہو۔

تاہم اس کہانی کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے، اور وہ ہمارے نظام کی ذمہ داری ہے۔ ایسے باصلاحیت افراد کو محض ان کی ذاتی جدوجہد کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا کافی نہیں۔ ریاست اور اداروں کو چاہئے کہ وہ معذور وکلاء کے لیے مزید سہولیات فراہم کریں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مزید مؤثر انداز میں استعمال کر سکیں۔
حیدر علی چٹھہ کی جدوجہد ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل معذوری جسم کی نہیں بلکہ سوچ کی ہوتی ہے۔ جب سوچ آزاد ہو اور ارادہ مضبوط ہو تو اندھیرا بھی راستہ نہیں روک سکتا، یہ کہانی ایک وکیل کی نہیں، بلکہ انسانی حوصلے کی فتح کی کہانی ہے۔